خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 90
خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۱۴ جنوری ۱۹۶۶ء دنیا سے قطع تعلق کر لینے کا خیال اس حد تک آگے پہنچا کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا جسم بھی مادی دنیا سے تعلق رکھتا ہے ہم اسے کلیہ تو فنا نہیں کرتے۔ہاں اس کے کچھ حصہ کو ہم نمونةٌ قتل کر دیتے ہیں تا کہ ہمارا رب ( ان کے اپنے زعم میں ) یہ سمجھے کہ ہم نے اس کی راہ میں اپنے جسموں کو بھی قربان کر دیا ہے۔جیسے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں بعض سا دھوا اپنی ایک یا دونوں بانہوں کو یا اپنی ایک ٹانگ یا دونوں ٹانگوں کو بعض خاص ریاضتوں کے ذریعہ بالکل مفلوج یا مردہ کی طرح کر دیتے ہیں۔وہ اپنی بانہوں کو ایک لمبے عرصہ تک اور متواتر آسمان کی طرف بلند کئے رکھتے ہیں اور انہیں حرکت نہیں دیتے۔یہاں تک کہ ان میں دورانِ خون بند ہو جاتا ہے اور وہ سوکھ جاتی ہیں۔غرض بعض لوگ اپنے جسم کے بعض حصوں کو بعض خاص ریاضتوں کے ذریعہ بالکل مفلوج ناکارہ یا مردہ کی طرح کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ اپنے ربّ کو خوش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔بعض انسان اس سے بھی آگے بڑھے اور انہوں نے سمجھا کہ وہ خود کشی کر کے اپنے رب کو راضی کر سکتے ہیں جب کہ چند ماہ پہلے بعض علاقوں سے یہ خبریں آئیں اور اخباروں میں چھپیں کہ بدھ مذہب کے بعض پیروؤں نے اپنے مذہبی حقوق منوانے کے لئے اپنے جسموں کو آگ لگا دی۔غرض انسان اپنی اس زندگی کی جو خدا تعالیٰ نے اسے عطا کی ہے قدر نہ کرتے ہوئے اور بعض غلط خیالات میں الجھنے کی وجہ سے رہبانیت کو مختلف شکلوں میں اختیار کرتا رہا ہے۔اسلام نے اس کی اجازت نہیں دی بلکہ اسلام جس قسم کی زندگی ہمیں گزارنے کو کہتا ہے وہ یہ ہے کہ ظاہری طور پر دنیا کا ایک حصہ ہوتے ہوئے دنیا کی کشمکش میں شریک ہوتے ہوئے اور وہ سارے فرائض ادا کرنے کے باوجود جو خدا تعالیٰ نے ہم پر عائد کئے ہیں ہم ایک طرح کے راہب ہی ہوں۔دنیا سے قطع تعلق کرنے والے ہی ہوں۔دنیا سے بے رغبتی کرنے والے ہی ہوں۔اسلام نے ہر شعبہ زندگی کے متعلق ہمیں کچھ احکام دیئے ہیں اس نے ہمیں بعض باتوں کے کرنے کا حکم دیا ہے اور بعض باتوں سے منع فرمایا ہے اور وہ ہم سے یہ چاہتا ہے کہ اس دنیا کے ہر شعبہء زندگی میں ایک مسلمان کی حیثیت سے داخل ہوں اور پھر دنیا کو یہ بتائیں کہ اس مادی دنیا