خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1003
خطبات ناصر جلد اول 1005 خطبہ جمعہ ۱۵؍ دسمبر ۱۹۶۷ء قسم با قسم کے ابتلاؤں میں کامیاب ہوئے بغیر انسان رضائے الہی کی جنتوں میں داخل نہیں ہو سکتا فرمائی۔خطبه جمعه فرموده ۱۵؍ دسمبر ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت ام حَسِبْتُمْ أَن تَدخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسْتُهُمُ ط الْبَاسَاءِ وَالضَّرَّاء وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِيب - (البقرة : ۲۱۵) اس کے بعد فرمایا:۔اس آیہ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتوں کو تم اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتے جب تک ایک مضبوط اور زندہ ایمان پر تم قائم نہ ہو جاؤ ایسا ایمان جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی معجزانہ نصرتوں کو اس کا عاجز بندہ مشاہدہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی معجزانہ نصرت اس وقت اور صرف ان لوگوں کو ملا کرتی ہے جو اپنے رب کے ساتھ ایک زندہ تعلق پیدا کر لیتے ہیں اور اس کی محبت میں اور اس کے عشق میں اپنے رات دن گزارتے ہیں اس محبت کو پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو راستہ بتایا ہے وہ عاجزانہ دعاؤں اور التجاؤں کا راستہ