خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 821
خطبات ناصر جلد دہم ۸۲۱ خطبہ نکاح ۹ / مارچ ۱۹۸۰ء اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے جو خوشی کے سامان پیدا کئے ان کی بنیاد اس پر ہے کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ ہو خطبہ نکاح فرموده ۹ / مارچ ۱۹۸۰ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عشاء محترمہ صاحبزادی امتہ المعز بنت مکرم کرنل (ریٹائرڈ) صاحبزادہ مرزا داؤ داحمد صاحب ربوہ کے نکاح کا اعلان فرمایا۔یہ نکاح ساٹھ ہزار روپے حق مہر پر محترم منظور الرحمن صاحب ابن مکرم لطف الرحمن صاحب ساکن لاہور سے قرار پایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَأَنَّهُ هُوَ اضْحَكَ وَابْكَى وَأَنَّهُ هُوَ امَاتَ وَاحْيَا (النجم : ۴۵،۴۴) اللہ تعالیٰ ہی ہے جو انسان کے لئے مسرت اور خوشی کے سامان پیدا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ہے جو انسان کو آزمائش میں ڈالتا اور دکھ اور ابتلا میں اس کا امتحان لیتا ہے۔فرمایا آمَاتَ وَاحْيَا۔اللہ ہی ہے جو موت کے سامان پیدا کرتا ہے اور اللہ ہی ہے جو زندہ رکھتا ہے۔انسان کو زندگی بخشتا اور اس کے زندہ رہنے کے سامان پیدا کرتا ہے۔یہ سب چیزیں انسانی زندگی کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے جو خوشی اور مسرت کے سامان پیدا کئے ان کی بنیاد اس بات پر ہے کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ ہو۔اس لئے