خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 742
خطبات ناصر جلد دہم ۷۴۲ خطبہ نکاح ۲۲ جون ۱۹۷۶ء فقدان نظر آئے گا فرد فرد کے تعلقات میں بھی، خاندان خاندان کے تعلقات میں بھی ، قوم قوم کے تعلقات میں بھی اور ملک ملک کے تعلقات میں بھی۔آج کی دنیا نے قول سدید کے مقابلہ میں ڈپلومیسی (Diplomacy) ( یعنی سیاسی زبان جس میں چالا کی و ہوشیاری زیادہ ہوتی ہے اور سداد کم ) کا لفظ استعمال کیا ہے گویا سیاسی زبان قول سدید کے خلاف بنادی گئی اور اس کا جو نتیجہ انسان نے بھگتا یا بھگت رہا ہے یا آئندہ جس کے بھگتنے کا خطرہ ہے اس کے تصور سے بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔یہ تو انسان کے وسیع تعلقات کی باتیں ہیں۔اسلامی معاشرہ میں خاندان کی بنیا دلڑ کے اور لڑکی کے رشتہ کے اعلان سے شروع ہوتی ہے اور اس موقع پر ایک نئی اجتماعی زندگی کی ابتدا ہوتی ہے۔دو نئے انسانوں میں تعلقات کو پیدا کیا جاتا ہے اور اس میں ایک بنیادی سبق ہمیں یہ دیا گیا ہے کہ قول سدید پر مضبوطی سے قائم رہو گے تو تمھارے ازدواجی تعلقات بھی بڑے خوشگوار رہیں گے۔تمہارے خاندان کے تعلقات میں بھی کسی قسم کی الجھنیں اور بدمزگیاں پیدا نہیں ہوں گی۔ہماری دعا ہے اللہ تعالیٰ جماعت کے ہر فرد کو اسلام کے اس بنیادی اصول کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے اور جماعت احمدیہ میں جو بھی نئے رشتے قائم ہوں، اللہ تعالیٰ ان کے لئے ایسے حالات پیدا کرے کہ وہ صحیح بنیادوں پر قائم ہوں اور جس رشتے کا آج اعلان ہورہا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو بھی ہر دو میاں بیوی کے لئے ، ہر دو خاندانوں کے لئے، جماعت احمدیہ اور نوع انسانی کے لئے برکات کا موجب بنائے۔اس وقت میں جس نکاح کا اعلان کرنا چاہتا ہوں، وہ عزیزہ بچی نزہت باجوہ صاحبہ بنت مکرم چوہدری شریف احمد صاحب باجوہ جو چک نمبر ۱۰۵ ج۔ب لائلپور کے رہنے والے ہیں۔ویسے ربوہ میں بھی قیام پذیر رہے ہیں اور انہوں نے کچھ وقت تک بطور مبلغ غیر ممالک میں بھی کام کیا ہے ان کی بچی کا نکاح دس ہزار روپے حق مہر پر عزیزم نصیر احمد صاحب باجوہ کے ساتھ قرار پایا ہے جو مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ واقف زندگی اور سابق امام مسجد لندن کے بیٹے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کا انجام بخیر کرے۔