خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 741
خطبات ناصر جلد دہم ۷۴۱ خطبہ نکاح ۲۲ جون ۱۹۷۶ء انسان میں ایک بنیادی فرق ہے کہ انسان کو بیان کی قوت دی گئی ہے خطبہ نکاح فرموده ۲۲ جون ۱۹۷۶ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز مغرب از راه شفقت محترمہ نزہت باجوہ صاحبہ بنت مکرم چوہدری شریف احمد صاحب باجوہ کے نکاح کا اعلان فرمایا جو دس ہزار روپے حق مہر پر محترم نصیر احمد صاحب باجوہ ابن مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ ناظر امور عامہ ربوہ کے ساتھ قرار پایا ہے۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔انسان اور دوسری مخلوقات میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ انسان کو بیان کی قوت دی گئی ہے۔اگر ہم انسانی زندگی سے ( میں کسی خاص فرد یا قومی زندگی کے متعلق نہیں کہہ رہا ) بیان کو نکال دیں تو انسانی زندگی ، انسانی زندگی نہیں رہتی۔اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ زندگی کے جتنے بھی شعبے ہیں اور ظاہر ہے بے شمار شعبے ہیں، ان کی بنیاد یا ان کا اثر یا ان کا بیج قول سدید میں مضمر ہے جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے جو خطبہ نکاح کے وقت پڑھی جاتی ہیں۔پس قول سدید کے نتیجہ میں انسانی زندگی میں کوئی اونچ نیچ ، کوئی گڑھے ، کوئی الجھاؤ اور بدمزگیاں نہ تو پیدا ہوتی ہیں اور نہ باقی رہتی ہیں۔اس لئے دوست ہمیشہ یاد رکھیں کہ انسانی تعلقات میں جہاں بھی کوئی خرابی نظر آئے وہاں یقیناً اس بنیادی اور اصل وجہ یعنی قول سدید کا