خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 734 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 734

خطبات ناصر جلد دہم ۷۳۴ خطبہ نکاح ۱۷ را پریل ۱۹۷۶ء جاپان مشن کھلا اور اب وہاں ہمارے دوسرے مبلغ عطاء المہیب صاحب گئے ہوئے ہیں جو نسبتا نو جوان ہیں وہ خدام الاحمدیہ کے صدر تھے انہوں نے میجر صاحب کی جگہ لی ہے اور اب وہ اپنا کام کر رہے ہیں پھر جس کو خدا توفیق دے گا وہ کام کرتا چلا جائے گا۔بہر حال ہر دو باپ لڑکی کے بھی اور لڑکے کے بھی ہم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم دل کے ساتھ اور عاجزی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور یہ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ اس رشتے کو ہر دوخاندانوں کے لئے جماعت کے لئے اور ساری دنیا کے لئے بہت ہی بابرکت کرے۔دوسرا نکاح جس کا میں اس وقت اعلان کروں گا وہ عزیزہ بچی رفیقہ صداقت صاحبہ کا ہے جو مکرم ملک محمد رفیق صاحب ربوہ کی بیٹی ہیں ان کا نکاح میں ہزار روپے مہر پر عزیزم مہر منیر اختر صاحب کملانہ ایڈووکیٹ جو مکرم مہر محمد نواب خاں صاحب مرحوم ساکن بستی وریام کملا نہ ضلع جھنگ کے رہنے والے ہیں کے ساتھ قرار پایا ہے۔میں ذاتی طور پر دولہا کے خاندان سے واقف نہیں لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ اس خاندان کے بعض احباب بڑے پرانے احمدیوں سے ہیں اور محمد رفیق صاحب جو ہماری بچی کے والد ہیں۔فرقان کے زمانہ میں رضا کارانہ طور پر کام کرتے رہے ہیں فرقان بٹالین ان نو جوان احمدیوں پر مشتمل تھی جو حکومت کے کہنے پر اور حکومت کے ضرورت بتانے پر رضا کارانہ طور پر قریب نہتے کشمیر کے محاذ پر لڑنے کے لئے گئے تھے۔یہ اس زمانہ کے رضا کار ہیں اور بطور افسر وہاں کام کرتے رہے ہیں۔مجھے بھی اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کی توفیق دی اور بہت عرصہ تک اس کا انچارج رہا۔جنگ کے زمانہ میں بھی میں وہاں جاتا رہا ہوں۔یہ جنگ ہمارے لئے تو ایک تماشا ہی تھی۔میں بھی جنگ کا تماشا دیکھتا رہا ہوں۔ایک دفعہ میں بعض دوستوں کو ساتھ لے کر گیا جو عمروں کے لحاظ سے بڑے بزرگ تھے۔جس دن ہم محاذ پر پہنچے اس دن شام تک ہندوستانی توپوں نے ہمارے ” بنکرز پر گولے نہیں برسائے۔چھوٹے چھوٹے بنکر ز گولہ باری کے دوران پناہ لینے کی جگہیں تھیں جو دو دو، تین تین فٹ اونچی بنائی گئی تھیں اور ہندوستانی توپوں کے گولے انڈے کہلاتے تھے۔میں نے کرنل حیات صاحب کو جو وہاں کے انچارج تھے کہا کہ میں مہمان لے کر آیا ہوں۔آپ نے انڈوں کا کوئی انتظام نہیں کیا اور مہمان