خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 726 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 726

خطبات ناصر جلد دہم خطبہ نکاح یکم اپریل ۱۹۷۶ء ڈالے ان کو ثبات قدم اور استقامت عطا کرے۔ان کے وجود کو دنیا کے لئے بابرکت وجود بنائے اور ان کے کام اور ان کے اعمال کو ایسا مقبول بنائے وہ اللہ تعالیٰ سے بھی جزا حاصل کرنے والے ہوں اور اسی کے نتیجہ میں وہ خدا کے بندوں کی دعائیں بھی لینے والے ہوں۔اگر چہ جماعت احمدیہ کے سارے ہی احباب دعاؤں کے محتاج ہیں لیکن نئی نسل کے جو رشتے استوار ہوتے ہیں اور جو نئے رشتے جوڑے جاتے ہیں اور آئندہ آنے والی نسل کی تیاری ہوتی ہے ان کے لئے ان حالات میں جب کہ دینی میدان میں ہماری جدو جہد اور ہمارا جہاد ایک نہایت ہی اہم دور میں داخل ہو چکا ہے اور ساری دنیا جمع ہو کر ہماری مخالفت پر تل گئی ہے اور خدا تعالیٰ ہماری وفا کا اور ہماری استقامت کا امتحان لے رہا ہے، خصوصی طور پر دعائیں کرنے کی ضرورت ہے خدا کرے ہم میں سے ہر ایک اس امتحان میں کامیاب ہو اور خدا کے حضور سرخرو ہو۔پس جیسا کہ میں نے بتایا کہ جو رشتے خصوصاً ان دنوں ہو رہے ہیں (ویسے تو ہمیشہ ہی یہ حال ہے ) ان کی اہمیت اس جہت سے اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ جماعت ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے اس لئے جو دولہا ہیں ان پر بھی بڑی ذمہ داریاں ہیں اور جو دلہنیں ہیں ان پر بھی بڑی ذمہ داریاں ہیں خصوصاً واقفین زندگی کی جو بیویاں ہیں وہ بھی واقفات ہی ہیں اگر وہ اپنے میاں کے ساتھ تعاون کرنے والی اور ان کے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹانے والی ہوں۔اگر ہماری یہ بچیاں اپنے گھروں کو جنت کا نمونہ بنانا چاہتی ہیں تو انہیں ایک ہی چیز کی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کبھی بے وفائی نہ کریں بلکہ ایک وفادار امتہ ( خدا کی بندی ) کی شکل میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے نیکی کریں۔نیکی کا ماحول پیدا کریں اور نیکیوں میں اپنے خاوندوں کے ساتھ تعاون کرنے والی ہوں خدا کرے ہمارے لئے ہمیشہ ہی ایسے سامان میسر آتے رہیں تا کہ ہم راہ راست، صراط مستقیم پر چلنے والے ہوں۔اس سے کبھی بھٹکنے والے نہ بنیں۔غرض ایک نکاح ہماری عزیزہ بچی ریحانه با نو صاحبہ بنت مکرم عبد الرحیم صاحب لون جہلم کا ہے جو دس ہزار روپے مہر پر عزیزم منیر الدین شمس صاحب ابن مکرم مولوی جلال الدین صاحب شمس مرحوم سے قرار پایا ہے۔