خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 660
خطبات ناصر جلد دہم ۶۶۰ خطبہ نکاح ۲۳ / دسمبر ۱۹۷۳ء بیعت میں داخل ہونے اور آپ سے عہد وفا باندھنے کی وجہ سے ایک ہی خاندان کے افراد بنادیا ہے۔اب خدا تعالیٰ کا یہی منشا ہے کہ اسلام کو آخری فتح نصیب ہو۔دنیا میں تمام بنی نوع انسان ایک ہی خاندان کے افراد بن جائیں۔پس اس لحاظ سے ہم سب ایک ہی خاندان کے افراد ہیں۔اس لئے سب کے لئے ایک ہی قسم کی خواہشات ہیں۔اللہ تعالیٰ سے ایک ہی قسم کی دعائیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے سب رشتوں کو خیر و برکت کا موجب بنائے۔اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات پر ہمارا ایک ہی قسم کا عاجزانہ تو گل ہے کہ وہ اپنے فضل سے ہماری ان خواہشوں کو پورا کرے گا اور ان دعاؤں کو قبول کرے گا جوان نکاحوں کے اعلان پر کی جارہی ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحمت سے آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی ان برکات سے نوازے گا جس کی بشارتیں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند حضرت مہدی معہود علیہ السلام کو دی گئی ہیں۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے عزیزہ امتہ الرافع صاحبہ جو میرے چھوٹے بھائی مرزا حفیظ احمد صاحب کی بچی ہیں اور بڑی نیک خصلت ہیں، ان کا نکاح عزیزم مکرم سید مولود احمد صاحب جو مکرم محترم سید داؤ دمظفر احمد صاحب کے صاحبزادہ ہیں اور میری ہمشیرہ امتہ الحکیم صاحبہ کے بڑے بیٹے ہیں، کے ساتھ پندرہ ہزار روپے حق مہر پر قرار پایا ہے۔مہر کی یہ رقم ہمارے خاندان میں مقرر ہونے والے مہر سے کچھ زیادہ نظر آئے گی لیکن چونکہ عزیزم سید مولود احمد صاحب انجینئر ہیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ دنیوی لحاظ سے بھی انشاء اللہ دوسروں سے آگے نکلنے والے ہوں گے۔اس لئے مہر زیادہ رکھا گیا ہے۔دوسرا نکاح عزیزہ بچی سیدہ امتہ العزیز صاحبہ کا ہے جو مکرم محترم سید عبدالقیوم صاحب کی بچی ہیں۔ان کا نکاح عزیزم مکرم سید مبشر محمود صاحب ابن مکرم محترم سید عبدالرشید صاحب کے ساتھ تین ہزار روپے حق مہر پر قرار پایا ہے۔پر پر تیسرا نکاح عزیزہ بچی مبارکہ نسرین صاحبہ کا ہے جو مکرم محترم چو ہدری مقبول احمد صاحب باجوہ شیخو پورہ کی بچی ہیں اور احمدیت کے فدائی اور جاں نثار مکرم محترم چوہدری فتح محمد صاحب