خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 653
خطبات ناصر جلد دہم ۶۵۳ خطبہ نکاح یکم نومبر ۱۹۷۳ء ہمیشہ ذمہ داریوں کو پیش نظر رکھ کر زندگی کا لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے خطبہ نکاح فرموده یکم نومبر ۱۹۷۳ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر از راه شفقت مندرجہ ذیل دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔۱- محترمه فرحت رشید صاحبہ بنت مکرم ابورشید صاحب کراچی کا نکاح دس ہزار روپے حق مہر پر محترم موسیٰ اسماعیل صاحب ابن مکرم میجر محمد اسماعیل صاحب لاہور سے۔۲- محترمہ شائسته رفعت صاحبه بنت مکرم صوبیدار میجرمحمد شفیع صاحب ربوہ کا نکاح پانچ ہزار روپے حق مہر پر محترم چوہدری محمد اکرم صاحب ابن مکرم چوہدری منشی خاں صاحب لائلپور سے۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (الحشر : ۱۹ ) میں ایک مضمون یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تقویٰ کا تعلق پیدا کرو جہاں تک تقویٰ کا سوال ہے یہ کم بھی ہوتا اور بڑھتا بھی رہتا ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق قائم کرنا چاہیے جو إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ میں بیان ہونے والے تقاضا کو پورا کرنے والا ہو۔نیز یہ امر بھی مد نظر رہنا چاہیے کہ ہم نے آج کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے ایک مضبوط رشتہ اور پختہ تعلق قائم کر رکھا ہے یا نہیں۔اگر چہ زمانہ بدلتا رہتا ہے لیکن ہر زمانہ کچھ قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہے۔غلبہ اسلام کی مہم جو اللہ تعالیٰ نے