خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 648 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 648

خطبات ناصر جلد دہم ربوہ سے قرار پایا۔۶۴۸ خطبہ نکاح ۲۹/اکتوبر ۱۹۷۳ء محترمہ بشری شریف صاحبہ بنت مکرم چوہدری محمد شریف صاحب مبلغ سلسلہ عالیہ احمدیہ کا نکاح محترم خالد سعید صاحب لا ہورا بن مکرم ڈاکٹر سعید احمد صاحب گیمبیا سے۔۷۔محترمہ بشری صدیقہ صاحبہ بنت مکرم پیر فضل الرحمن صاحب سانگھڑ کا نکاح سات ہزار روپے حق مہر پر محترم صفی اللہ خاں صاحب ابن مکرم چوہدری عطاء اللہ خان صاحب ربوہ سے قرار پایا۔حضور انور نے خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا:۔خطبہ نکاح کا ایک حصہ رہ گیا تھا اس لئے میں نے دوبارہ پڑھا۔شاید اللہ تعالیٰ کے نزدیک خطبہ نکاح میں پڑھی جانے والی یہ تین آیتیں دو دفعہ پڑھنے کی ضرورت تھی۔تاہم جہاں تک مسئلہ کا سوال ہے نکاح سے قبل گو ان آیات کا پڑھنالا زمی اور ضروری نہیں ہے اسلام نے تو یہاں تک روا رکھا ہے کہ بسم اللہ پڑھ کر جائز طریقے پر نکاح کا اعلان کیا جا سکتا ہے لیکن چونکہ آیات کی تلاوت کے دوران ہی میں نے یہ محسوس کر لیا کہ عام رواج کے مطابق خطبہ مسنونہ کا ایک حصہ نہیں پڑھ سکا جس سے مجھے اس طرف توجہ ہوئی کہ نئی نسلوں کو تقویٰ کی طرف شاید تین دفعہ کی بجائے چھ دفعہ بلا نا ضروری ہو گیا ہے اس لئے میں نے ان آیات کی تلاوت کرنے کے بعد پھر مسنون اور مروجہ طریق پر دوبارہ خطبہ پڑھا۔طبیعت میں ابھی ضعف ہے اس لئے میں نصائح پر مشتمل کوئی لمبا خطبہ تو اس وقت نہیں دے سکتا۔میں نے احباب جماعت کو پہلے بھی کئی دفعہ توجہ دلائی ہے۔مجھ سے پہلوں نے بھی اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اسلام کی حسین تعلیم صرف سچ بولنے کا حکم نہیں دیتی کیونکہ بعض اوقات خاموش رہنے کا بھی حکم ہے۔اگر محض سچ بولنے کے حکم پر اکتفا کیا جاتا تو پھر ایک فتنہ پیدا کرنے والا شخص سچ اس وقت بولتا جب اسے اسلام نے یہ حکم دیا تھا کہ تو بول نہ اور خاموش رہ۔اس لئے اسلامی تعلیم نے قول سدید کا حکم دیا ہے۔جہاں تک میرا مطالعہ ہے اور میں نے غور کیا ہے اسلام سے پہلے کسی مذہب اور کسی فلسفہ نے انسان کو اس طرف توجہ نہیں دلائی۔یہ صرف اسلام ہی ہے جس نے اس مسئلہ کو واضح کیا ہے۔اس لحاظ سے یہ بھی اسلامی خصوصیات میں سے ایک بہت بڑی