خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 638
خطبات ناصر جلد دہم ۶۳۸ خطبہ نکاح ۲۴ جون ۱۹۷۳ء غرض پہلا نکاح عزیزہ بچی امتہ الکریم صاحبہ کا ہے جو مکرم و محترم چوہدری نذیر احمد صاحب باجوہ مرحوم سیالکوٹ کی صاحبزادی ہیں۔ان کا رشتہ عزیزم مکرم میجر مبشر احمد صاحب باجوہ ابن مکرم و محترم چوہدری شیر محمد صاحب مرحوم چک نمبر ۳۳ جنوبی ضلع سرگودھا کے ساتھ دس ہزار روپے حق مہر پر قرار پایا ہے۔ہماری عزیزہ بچی امتہ الکریم صاحبہ کے بھائی عزیزم چوہدری افتخار احمد صاحب باجوہ اپنی ہمشیرہ کی طرف سے وکیل ہیں۔ہماری دوسری بچی جن کے نکاح کا میں اس وقت اعلان کروں گا وہ عزیزہ ریحانہ یاسمین صاحبہ ہیں جو مکرم و محترم چوہدری بشارت احمد خان صاحب کی صاحبزادی ہیں ان کا نکاح دس ہزار روپے حق مہر پر عزیزم مکرم میجر صفی اللہ خان صاحب ابن مکرم و محترم کرنل ظفر اللہ خان صاحب چک نمبر ۶۸ ج۔ب ضلع لائلپور سے قرار پایا ہے۔مکرم چوہدری بشارت احمد خان صاحب اس وقت لندن میں ہیں۔انہوں نے مجھے اختیار دیا تھا کہ میں جس کو چاہوں وکیل بنادوں۔تاہم ان کی خواہش یہ تھی کہ میں خود وکیل بن جاؤں لیکن اصولاً چونکہ میں کسی کا وکیل نہیں بنا کرتا اس لئے ان کی طرف سے جو اختیار اخلاقا اور شرعاً مجھے دیا گیا ہے اس کے مطابق میں نے مکرم و محترم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ کو ان کی بچی کے نکاح کا وکیل مقر ر کیا ہے۔ایجاب وقبول کے بعد ان ہر دورشتوں کے بہت ہی بابرکت اور مثمر بثمرات حسنہ ہونے کے لئے حضور انور نے حاضرین سمیت دعا کروائی۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )