خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 637 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 637

خطبات ناصر جلد دہم خطبہ نکاح ۲۴ جون ۱۹۷۳ء آیات میں ہمارے سامنے رکھا گیا ہے۔جن لوگوں کے نئے رشتے قائم ہوتے ہیں ان کو یاد دہانی ہو جاتی ہے۔خدا کرے کہ وہ اس حقیقت کو کبھی بھولیں نہیں۔وہ اس حقیقت کے پیش نظر اپنے فرائض کو ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے والے ہوں۔دو نکاحوں کا اس وقت میں اعلان کروں گا۔دونوں بچیوں کی سائیڈ (Side) یعنی وہ اور ان کے خاندان خصوصاً اس بات کے بڑے ہی حقدار ہیں کہ ہم ان کے لئے بہت ہی دعائیں کریں۔اور اسی طرح لڑکوں اور ان کے خاندان کے لئے بھی۔لیکن اس وقت میرے سامنے جو چیز آتی ہے وہ بچیوں کی طرف سے ہے۔ہمارے مرحوم بھائی چوہدری نذیر احمد صاحب باجوہ سیالکوٹ ہیں ( جن کی صاحبزادی کا نکاح ہے ) چوہدری صاحب مرحوم کالج کے زمانہ سے میرے ذاتی واقف اور دوست تھے۔اتنی شرافت تھی اس شخص کی طبیعت میں کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے اور خالی شرافت ہی نہیں تھی بلکہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو جماعتی ذمہ داریوں کے نباہنے کا موقع عطا کیا تو انہوں نے اپنی طرف سے پورے اخلاص اور ایثار کے ساتھ جماعت کے کام کئے اور مقبول کوشش کی توفیق پائی۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ایک تو ان کی صاحبزادی ہیں جن کے نکاح کا میں اس وقت اعلان کروں گا۔دوسرے ہمارے کا ٹھگڑھ کے ایک پرانے احمدی خاندان کی نواسی اور سر وعہ کے ایک مخلص خاندان کی پوتی ہیں۔بیچ میں کچھ تھوڑا سا فرق پڑا ہے۔ایک نسل میں وہ اخلاص نہیں دکھائی دیا جو بچی کے نانا اور دادا میں پایا جاتا تھا۔گویا بچی کے نانا اور دادا جس مقام کو حاصل کرنے والے تھے اس مقام کو بچی کے والد نے قائم نہیں رکھا۔بڑا افسوس ہوتا ہے۔خدا کرے کہ پھر ایک نسل کے بعد جو دوسری نسل شروع ہوگئی ہے ان کو اسی اخلاص کے ساتھ کام کرنے کی توفیق عطا ہو جس اخلاص کے ساتھ کام کرنے کی توفیق ان کے بزرگوں کو عطا ہوئی تھی۔اس لئے میرے لئے خصوصاً اور جماعت کے لئے عموماً دونوں بچیاں پیار کی مستحق ہیں۔ہم دل سے دعا کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں رشتوں کو چاروں خاندانوں کے لئے بہت بابر کت کرے۔