خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 630
خطبات ناصر جلد دہم ۶۳۰ خطبہ نکاح ۱/۲۰ پریل ۱۹۷۳ء کی ملاقات ہوئی۔باتوں باتوں میں جب احمدیت کا ذکر ہوا تو وہ کہنے لگا کہ میری بیعت لو۔ہمارے احمدی دوست نے کہا تم نے نہ کتابیں پڑھیں ، نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کے متعلق کچھ علم ہے تم پہلے مجھ سے کتابیں لے جاؤ ان کو غور سے پڑھو اور دعائیں کرو۔جب پوری طرح شرح صدر ہو جائے تو پھر تم بیعت بھی کر لینا۔وہ کہنے لگا کہ نہیں میں نے تو ابھی بیعت کرنی ہے۔اور اس وجہ سے بیعت کرنی ہے۔پھر اس نے سارا قصہ بتایا کہ ہمارے والد مرتے وقت ہمیں وصیت کر گئے تھے۔میں ان کی وصیت کے مطابق اسی وقت بیعت کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ وہ بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔اس کے دو اور دوست تھے جو اس وقت وہاں موجود نہیں تھے رات کو جا کر پوری رات ( پتا نہیں سو یا بھی تھا یا نہیں ) ان کو سمجھا تا رہا۔اگلے دن صبح ان سے بھی بیعت کر والی۔اب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس علاقے میں اچھی خاصی جماعت بن چکی ہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ - پس میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ اسلام کو ساری دنیا پر غالب کرے گا۔یہ غلبہ احمدیت کے ذریعہ مقدر ہے۔خدا تعالیٰ کے فیصلے کے خلاف دنیا کی کوئی طاقت کھڑی نہیں ہو سکتی۔ہوگا وہی جس کا خدا نے فیصلہ کیا ہے اور جس کے ہونے کا اس نے ارادہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے اس منشا کو پورا کرنے کے لئے ظاہری اور دنیوی لحاظ سے ایک تدبیر کی اور امام مہدی کو بھیجا جس نے ایک الہی جماعت قائم کر دی۔جو ساری دنیا کی مخالفتوں کے باوجود اکناف عالم میں اسلام کی تبلیغ واشاعت میں سینہ سپر ہے۔اب دیکھو وہ شخص اکیلا تھا۔اکیلا نہیں تھا۔خدا تعالیٰ اس کے ساتھ تھا۔جس کے ساتھ خدا کا فضل ہو اس کو ہم اکیلا نہیں کہہ سکتے۔پھر وہ ایک سے ہزار ہوا۔ہزار سے لاکھ ہوا۔پھر اس کے نام لیوا لا کھ سے دس لاکھ تک جا پہنچے۔اور اب تو ان کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔میرا اندازہ ہے کہ ساری دنیا میں اس وقت ساری دنیا کی میں بات کر رہا ہوں۔جلسہ سالانہ پر بھی میں نے کہا تھا۔بعض نے اعتراض کر دیا تھا کہ پاکستان میں تو اتنے احمدی نہیں ہیں۔میں پاکستان کی بات نہیں کر رہا بلکہ ساری دنیا میں ) کم و بیش دو کروڑ احمدی ہیں۔جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس محبوب مہدی