خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 629
خطبات ناصر جلد دہم ۶۲۹ خطبہ نکاح ۱/۲۰ پریل ۱۹۷۳ء انڈونیشی زبان نہیں بولا کرتے تھے۔وہ عربی بولتے تھے۔ان کے عربی قصیدے اتنی اعلیٰ پایہ کی عربی پر مشتمل تھے کہ آج تک مسلمانوں کے نصاب تعلیم میں شامل چلے آرہے ہیں۔ان عربی دانوں نے قرآن کریم کا انکار کیا۔نہ صرف یہ بلکہ آج کا عربی دان قرآن کریم کی تفسیر کا انکار کرتا ہے۔اس لئے محض عربی دان ہونا کافی نہیں ہے۔تاریخ بتاتی ہے اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ اس بات کا مشاہدہ کراتی ہے کہ محض عربی دان ہونا کوئی خوبی نہیں ہے اگر محض عربی دانی کافی ہوتی تو ابوجہل ابو جہل نہ بنتا۔اسی طرح وہ سارے صنادید کفر جو بڑے لاؤلشکر کے ساتھ بدر کے میدان میں آئے تھے اور ان کے مقابلہ میں مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ تعداد تھوڑی ، ٹوٹی پھوٹی تلواریں ( بعض لکڑی کی بھی تھیں) مگر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ہاتھوں کفار کی گردنیں اڑانے کا انتظام کیا تھا۔وہ اپنے سرداروں کی لاشیں میدان جنگ میں چھوڑ کر بھاگ نکلے۔عربی دانی نے ان کو کچھ بھی فائدہ نہ پہنچایا۔چنانچہ اب بھی بعض عربی دان حضرات کہتے ہیں کہ قرآن کریم ہمیں آنا چاہیے۔قرآن کریم بندہ بندہ کو نہیں سکھایا کرتا۔یہ اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات ہے جو اپنی مشیت کے ماتحت اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے رموز و اسرار قرآنی سکھایا کرتا ہے۔اور اس سے آگے دوسرے بندے قرآن کریم سیکھتے ہیں۔اسی طرح جن لوگوں تک ہماری بات نہیں پہنچ پاتی ( یہ میں اصل بات کہنے لگا ہوں) ان کو اللہ تعالیٰ خواب کے ذریعہ بتا دیتا ہے۔ابھی ڈیڑھ دو سال کا واقعہ ہے ایک عرب ملک میں رہنے والے شخص نے اپنی وفات کے وقت اپنے بچوں کو اکٹھا کیا اور کہا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ امام مہدی ظاہر ہو چکا ہے اور مسیح کا نزول ہو چکا ہے۔میں بڑا بد قسمت ہوں کہ مجھے ان سے یا ان کی جماعت سے تعارف و ملاپ نہیں ہو سکا۔میں اس دنیا کو بڑی حسرت سے چھوڑ رہا ہوں۔تاہم میں تمہیں یہ وصیت کرتا ہوں کہ جب بھی امام مہدی یا اس کی جماعت کے متعلق تم سنوفو را امام مہدی کی جماعت میں شامل ہو جانا۔اب دیکھو ہم نے تو اس خاندان کو تبلیغ نہیں کی۔اللہ تعالیٰ کے فرشتے آئے اور انہوں نے عربی دانوں کے فتووں کے باوجود احمدیت کی صداقت قبول کرنے کے سامان پیدا کر دیئے۔ہمیں اس بات کا اس طرح پتہ لگا کہ مرحوم کے ایک بیٹے سے ہمارے ایک احمدی