خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 39 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 39

خطبات ناصر جلد دہم ۳۹ خطبہ عیدالفطر ۱۲؍ دسمبر ۱۹۶۹ء خطبہ ثانیہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اب میں دعا کراؤں گا دوست اپنے ان بھائیوں (جس میں ساری جماعت بھی آ جائے گی ) کے لئے دعا کریں جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے مخلصانہ مجاہدہ میں لگے ہوئے ہیں اور اپنے ان بھائیوں کے لئے (اگر ان کے بیوی بچے بھی ان کے ساتھ ہیں تو ان کے لئے بھی) دعا کریں جو دور دراز ممالک میں اعلائے کلمہ اسلام کے لئے کام کر رہے ہیں اور خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے ، اسلام کو غالب کرنے اور لوگوں کے دلوں میں عشق محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) پیدا کرنے کے لئے دن رات مشغول ہیں۔دنیا کی کسی راحت اور آرام کی طرف انہیں توجہ نہیں۔ایک آگ ان کے سینوں میں سلگ رہی ہے جو انہیں بے چین رکھتی ہے اور جو تبلیغ اسلام میں منہمک رہتے ہیں یہ لوگ دعا کے اہل اور مستحق ہیں ان کے لئے دعا کی جائے کہ اللہ ان پر رحم کرے۔ان پر اپنی برکتیں نازل کرے اور خود ہی ان کا معلم اور ہادی اور محافظ بنے انہیں اپنی امان میں رکھے۔انہیں اسلام کے دشمنوں پر غالب کرے اور خود اللہ تعالیٰ کے جو منکر ہیں ان کے مقابلہ میں روحانی طور پر دلائل اور نشانات کے ساتھ تلوار کی مانند مدد کرے۔ان کے ذریعہ سے متواتر شرف اور بزرگی کے نشان دکھائے اپنا رعب دکھائے۔اپنی عظمت اور جلال دکھائے۔پھر اگلی نسل کے لئے بھی دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی ایسے اعمال بجالانے کی توفیق عطا کرے جو مقبول ہوں مشکور ہوں اور اللہ تعالیٰ انہیں قبول کرے اور روحانی اور جسمانی ترقیات کے سامان کرے اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے دلوں میں یہ احساس پیدا کیا ہے کہ ہم اپنی ساری زندگی کو قربان کر کے بھی غلبہ اسلام کی اس مہم کو کامیاب کرنا چاہتے ہیں جو دنیا میں جاری کی گئی ہے اور اگر چہ احساس ورثہ میں منتقل نہیں ہوتا لیکن خدا کرے کہ یہ احساس ان کے سینوں میں بھی منتقل ہو جائے اور ان کے سینوں میں بھی وہی آگ بھڑ کے جو ہمارے سینوں میں بھڑک رہی ہے اور اس کے شعلے بلند سے بلند تر ہوتے جائیں تا مقصد اسلام کو وہ پورا کرے خدا کرے کہ ہمارے لئے جتنے سانس بھی اس دنیا میں مقدر ہیں ان میں سے ہر سانس ہماری بہتری ، بھلائی اور خیر کا موجب ہو اور وہ خدا کے فضل کو زیادہ جذب کرنے والا ہوتا ہم ہر وقت یہ محسوس