خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 585
خطبات ناصر جلد دہم ۵۸۵ خطبہ نکاح ۳ رمئی ۱۹۷۲ء انسان اپنے آپ کو معصوم عن الخطا خیال نہ کرے خطبہ نکاح فرموده ۳ رمئی ۱۹۷۲ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر درج ذیل دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔۱۔محترمہ طاہرہ تسنیم صاحبہ بنت مکرم ملک عبد القدیر خان صاحب ساکن لائل پور کا نکاح محترم زرتشت منیر صاحب کے ساتھ بعوض مبلغ پانچ ہزار روپیہ حق مہر۔-۲- محترمہ امۃ الرشید ملک صاحبہ بنت مکرم ملک سعد اللہ خان صاحب ربوہ کا نکاح مکرم محمد احمد صاحب باجوہ کے ساتھ بعوض مبلغ چھ ہزار روپیہ حق مہر۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔انسان کے اعمال کبھی بھی مجموعی طور پر غلطی ، گناہ ، کوتاہی اور غفلت سے خالی اور مبرا نہیں ہو سکتے۔چھوٹی یا بڑی بشری کمزوریاں یا خواہشات بیچ میں آجاتی ہیں۔اور ان کے نتیجہ میں چھوٹی یا بڑی غلطی سرزد ہو جاتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی کہ سیات اعمال سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیا کرو اور استغفار کیا کرو اور اپنے گناہوں کی معافی مانگا کرو اور اپنے آپ کو گناہ اور غفلت اور کوتاہی سے پاک نہ سمجھا کرو۔وہ زندگی جو قائم رہنے والی ہے اور جسمانی اور روحانی زندگی کا مجموعہ ہے۔اس کا صحیح معنی