خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 584 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 584

خطبات ناصر جلد دہم ۵۸۴ خطبہ نکاح ۱۵ را پریل ۱۹۷۲ء اور تمہاری نسل کے لئے بھی خوشحالی کے سامان پیدا کرے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھی سادی ، بے تکلف اور بغیر کسی کبھی کے بات کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی رضا کی جنتوں میں داخل کرے اور ہر قسم کی خوشحالیاں نصیب فرمائے۔اس وقت میں دو نکاحوں کا اعلان کروں گا۔ایک نکاح تو عزیزہ تسنیم حمید صاحبہ کا ہے جو مکرم و محترم قاضی عبدالحمید صاحب ایڈووکیٹ لاہور کی صاحبزادی ہیں۔ان کا نکاح دس ہزار روپے حق مہر پر عزیزم مکرم مجیب الرحمن صاحب درد جو مکرم و محترم مولا نا عبد الرحیم صاحب در دمرحوم کے صاحبزادہ ہیں کے ساتھ قرار پایا ہے ہر دو کے خاندان سلسلہ احمدیہ کے پرانے خادم خدا تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے اور ہماری دعاؤں کے حقدار ہیں۔خدا کرے کہ پہلوں نے جوفضل حاصل کئے اور جس رنگ میں حاصل کئے ، یہ بھی اور ان سے چلنے والی نسلیں بھی اسی رنگ میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور اس کے فضلوں کو پانے والی ہوں۔دوسرا نکاح عزیزہ رضیہ بشریٰ صاحبہ کا ہے جو مکرم و محترم میاں محمد اسماعیل صاحب مرحوم ربوہ کی صاحبزادی ہیں اور ان کا نکاح ایک ہزار روپے حق مہر پر عزیزم مکرم غلام مصطفیٰ خاں صاحب کے ساتھ قرار پایا ہے۔مکرم غلام مصطفیٰ خاں صاحب مکرم و محترم محمد منشی خاں صاحب مرحوم بیر یا نوالہ ضلع سیالکوٹ کے صاحبزادہ ہیں مکرم و محترم محمد منشی خان صاحب مرحوم بڑے لمبے عرصہ تک معلم اصلاح وارشاد ر ہے ہیں۔میں ان کو جانتا ہوں۔مرحوم بڑے مخلص فدائی ، بے نفس ، زبان میں اثر رکھنے والے اور کامیاب دیہاتی مبلغ تھے۔اللہ تعالیٰ اس رشتہ کو بھی ہمارے دوسرے احمدی رشتوں کی طرح بہت با برکت کرے۔ایجاب وقبول کے بعد حضور انور نے ان رشتوں کے بابرکت ہونے اور ثمرات حسنہ کا موجب بننے کے لئے حاضرین سمیت لمبی دعا کرائی۔( روزنامه الفضل ربوه ۲۷ ۱ پریل ۱۹۷۲ ء صفحه ۴)