خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 562
خطبات ناصر جلد دہم ۵۶۲ خطبہ نکاح ۴ ر د سمبر۔* 192 • تھی ، اس میں کوئی تکلیف نہیں تھی۔لیکن اب وہ زمانہ بدل گیا۔اس وقت جماعت احمدیہ میں ایسے ہزاروں خاندان ہیں جو واقف ہی ہیں۔خواہ انہوں نے ظاہری طور پر وقف کیا ہوا ہے یا نہیں۔میں ایسے سینکڑوں دوستوں کو جانتا ہوں جو اپنے کاموں کے علاوہ پانچ پانچ، چھ چھ سات سات اور آٹھ آٹھ گھنٹے روزانہ جماعتی کاموں پر خرچ کرتے ہیں۔اب جس آدمی نے اپنی زندگی با قاعدہ وقف کی ہوتی ہے۔ہو سکتا ہے بعض دفعہ وہ بے تو جہی کے نتیجہ میں روزانہ جتنا کام کرتا ہے میہ اس سے زیادہ کام کر رہے ہوں لیکن جو نوجوان نسل ہے، ان کے متعلق حسن ظن بھی ہوتا ہے اور دل میں خوف بھی پیدا ہوتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے خاندان میں سے اکثر کے دل میں ( سب کے متعلق تو میں نہیں کہہ سکتا ) یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ان کی بچیاں اگر خاندان سے باہر جاتی ہیں تو واقف زندگی کے ساتھ بیاہی جائیں انہیں دنیوی دولت اور مال کی طمع نہیں ہوتی۔بلکہ دل کے اخلاص کی دولت کی خواہش ہوتی ہے لیکن مشکل یہ ہوتی ہے کہ پوری طرح تسلی نہیں ہو پاتی۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔اس لئے اس موقع پر میں دوستوں سے یہ کہوں گا کہ بہترین تحفہ جو ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بچی کے نکاح کے موقع پر اس کو پیش کر سکتے ہیں وہ یہ دعا ہے کہ خدا کرے وہ خود بھی اور اس کا ہونے والا خاوند بھی حقیقی وقف کی روح کے ساتھ زندگی گزارنے والا ہو۔جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا تھا۔یہ شادی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پڑ نواسی اور محترم ڈاکٹر میر مشتاق احمد صاحب کے بچے کے درمیان سات ہزار روپے مہر پر قرار پائی ہے۔ایجاب و قبول کرانے کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔دوست دعا کر لیں وہی دعا جو میں نے ابھی بتائی ہے۔پھر حضور انور نے حاضرین سمیت لمبی دعا کرائی۔روزنامه الفضل ربوه ۱۳ / جنوری ۱۹۷۲ ء صفحه ۳)