خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 561 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 561

خطبات ناصر جلد دہم ۵۶۱ خطبہ نکاح ۴ ردسمبر ۱۹۷۰ء حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں منافقین کے علاوہ سبھی آدمی واقفین زندگی تھے خطبہ نکاح فرموده ۴ / دسمبر ۱۹۷۰ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے خطبہ جمعہ سے قبل محترمہ سیدہ نصرت جہاں صاحبہ بنت مکرم محترم نواب مسعود احمد خان صاحب کے نکاح کا اعلان فرمایا۔یہ نکاح سات ہزار روپے حق مہر پر مکرم سید محمود احمد صاحب ابن مکرم ڈاکٹر میر مشتاق احمد صاحب لاہور کے ساتھ قرار پایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔خطبہ جمعہ سے قبل میں ایک نکاح کا اعلان کرنا چاہتا ہوں۔یہ نکاح ہمارے پھوپھا حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ آف مالیر کوٹلہ اور ہماری پھوپھی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مدظلہ العالی کی پوتی کا ہے جو عزیزم سید محمود احمد صاحب ابن محترم ڈاکٹر میر مشتاق احمد صاحب سے سات ہزار روپے حق مہر پر قرار پایا ہے۔قرونِ اولیٰ میں خصوصاً حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں منافقین کے علاوہ سبھی آدمی واقفین زندگی تھے۔وہ اپنا کام بھی کرتے تھے لیکن جب اسلام پر حملہ ہوتا تو وہ بے سروسامانی کے باوجود اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار بھی رہتے تھے۔اس لئے اس وقت اس آدمی کے دل کی خواہش جو اپنی بچی کو ایک واقف زندگی سے بیاہنا چاہتا ہو پوری ہو جاتی