خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 556 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 556

خطبات ناصر جلد دہم خطبہ نکاح یکم نومبر ۱۹۷۰ء اور روحانی طور پر بھی اور دوسرے یہ کہ اسی کی قدرت کاملہ اور اس اظہار کے لئے کہ زندگی اس کے بغیر مکمل نہیں زندوں سے مردہ بن جاتے ہیں۔اس سے انسان یہ سبق لیتا ہے کہ اس کی زندگی اور بقاء اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے۔اپنے زور سے تو کچھ ہونہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ کی صفت حتی کا تیسرا جلوہ یہ ہے کہ زندہ سے زندہ پیدا ہوتا ہے جسمانی طور پر ایک سلسلہ چل نکلتا ہے اور روحانی طور پر بھی باپ اللہ تعالیٰ کا فدائی پھر اس کا بیٹا خدا کا فدائی اور پھر اس کی اگلی نسل بھی اللہ تعالیٰ پر سب کچھ قربان کرنے والی ہوتی ہے اسی طرح زندہ سے ایک زندہ ، زندہ سے ایک اور زندہ پیدا ہوتا چلا جاتا ہے۔الہی سلسلوں کی ابتدا میں عام ( طور ) پر یہی حسین جلوہ ہمیں نظر آتا ہے کہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل اور خاندان کے ایک فرد کے بعد دوسرا فرد اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دینے والا ہوتا ہے گوشاذ دوسرا جلوہ بھی نظر آتا ہے کہ باپ تو بڑا مخلص ہوتا ہے مگر اس کی انگلی نسل کے دل میں دنیا۔کی محبت ترقی کر جاتی ہے اور ان کے بزرگوں کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کو لگانے کی جو صفت تھی وہ ان میں کم ہو جاتی ہے۔ٹھیک ہے یہ بھی ہمیں نظر آتا ہے لیکن اکثر یہ نظر آتا ہے کہ باپ کے بعد اس کا بیٹا اور پھر اس کا بیٹا خدا تعالیٰ کی راہ میں ایسی خدمات کی توفیق پاتا ہے جو ہماری نگاہ میں نہایت پیاری اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہوتی ہیں۔اس لئے ایسے موقعوں پر بہترین دعا یہی کی جاسکتی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی راہ میں جماعت احمدیہ کی پہلی اور پھر بڑی حد تک اب دوسری نسل کو قربانیاں دینے کی توفیق ملی ہے اسی طرح ان رشتوں کے نتیجہ میں جونئی نسلیں پیدا ہونے والی ہیں اللہ تعالیٰ انہیں بھی ان کے آباء واجداد کی طرح خدا کی راہ کا فقیر اور اسی سے ہر چیز کی احتیاج محسوس کرتے ہوئے اپنی ہر ضرورت کو اس سے پانے والا بنائے۔آمین ایجاب وقبول کے بعد حضور انور نے حاضرین سمیت ان رشتوں کے بابرکت ہونے کے لئے دعا کرائی۔روزنامه الفضل ربوه ۲۸ /نومبر ۱۹۷۰ ء صفحه ۳)