خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 554 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 554

خطبات ناصر جلد دہم ۵۵۴ خطبہ نکاح ۱۰ اکتوبر ۱۹۷۰ء لے جانے والا ہے۔اسے اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والا نہیں۔اسلام نے ہر تعلق کے متعلق خواہ وہ بندے کا رب سے تعلق ہو یا بندے کا بندے سے تعلق ہو۔ہدایت کا راستہ معین اور واضح کر دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آواز پر کان دھرتے ہوئے اور اس کی رضا کے حصول کی خاطر ہمیں ان راہوں کو اختیار کرنا چاہیے۔خدا کرے کہ جو ازدواجی رشتے ہماری جماعت میں قائم ہوتے ہیں یا ہور ہے۔ان سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی بھی اور ان کے خاندان بھی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقوں کو اختیار کریں اور ان کو چھوڑ کر کسی اور راہ کو اختیار نہ کریں۔اس وقت میں دونکاحوں کا اعلان کروں گا۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان رشتوں کو بہت بابرکت کرے والدین کے لئے بھی، جماعت کے لئے بھی اور بنی نوع انسان کے لئے بھی۔اس کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل دو نکاحوں کا اعلان فرمایا :۔۱- محترمہ سیدہ مسرت صاحبہ بنت محترم ڈاکٹر حاجی سید جنود اللہ صاحب مرحوم کا نکاح آٹھ ہزار روپیہ مہر پر سید نصیر شاہ صاحب ابن محترم سید بشیر احمد شاہد صاحب آف ربوہ سے قرار پایا۔مکرم سید جنود اللہ صاحب مرحوم کے بیٹے سید محمود شاہ صاحب نے اپنی بہن کی طرف سے بطور ولی ایجاب وقبول کیا۔-۲- محترمہ سیدہ آمنہ بیگم صاحبہ بنت مکرم سید موسیٰ رضا صاحب آف چٹا گانگ کا نکاح چار ہزار روپیہ مہر پر مکرم سید طارق محمود بخاری صاحب ابن مکرم سید ریاض احمد صاحب بخاری آف جہلم - قرار پایا۔لڑکی کے والد چونکہ چٹا گانگ میں ہیں ان کی طرف سے مکرم سید اعجاز احمد صاحب مربی سلسلہ راولپنڈی نے بطور وکیل ایجاب وقبول کیا۔ނ بعد ازاں حضور انور نے حاضرین سمیت نکاحوں کے بابرکت اور مثمر ثمرات حسنہ ہونے کے لئے دعا فرمائی۔روزنامه الفضل ربو ۲۰۰ /نومبر ۱۹۷۰ ء صفحه ۳)