خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 538 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 538

خطبات ناصر جلد دہم ۵۳۸ خطبہ نکاح ۱۴ / جون ۱۹۷۰ء خوشی کا باعث ہے اور وہ ہمارے محترم بھائی چوہدری رحمت اللہ صاحب باجوہ کی بچی کا نکاح ہے جس کے متعلق چند مہینوں سے میں کچھ پریشان تھا کہ بچی کی عمر بڑی ہورہی ہے اور اس کا نکاح جلد ہو جانا چاہیے۔وہ مشرقی پاکستان میں رہے ہیں اور یہ بھی خیال تھا کہ وہ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے بھی دور رہے ہیں اب ان کو زیادہ فکر ہوگی اور زیادہ فکر کسی احمدی بھائی یا بہن کو ہو تو میرے فکر میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ا۔اس بچی عزیزہ شاہدہ باجوہ کا نکاح بھائی میجر شریف احمد صاحب باجوہ کے لڑکے کے ساتھ جو فوج میں کیپٹن ہیں اور ان کا نام کیپٹن لطیف احمد صاحب باجوہ ہے بارہ ہزار پانچ صد روپیہ مہر پر قرار پایا ہے۔۲۔عزیز محموده تاج صاحبہ بنت مکرم مولوی تاج الدین صاحب لائل پوری ربوہ کا نکاح آٹھ ہزار روپیہ مہر پر عزیزم مکرم محمد صدیق صاحب پسر چوہدری نور محمد صاحب ساکن چک نمبر ۲۶ ج۔ضلع لائل پور سے قرار پایا ہے۔۳۔عزیزہ مبشرہ صالحہ بنت مکرم مولوی تاج الدین صاحب لائلپوری ربوہ کا نکاح پانچ ہزار روپیہ مہر پر مکرم بشیر احمد صاحب پسر چوہدری نور محمد صاحب سکنہ چک نمبر ۲۶ ج۔ب ضلع لائلپور سے قرار پایا ہے۔۴ - عزیزہ سیدہ امتہ السلام طاہرہ صاحبہ بنت مکرم سید عبد السلام صاحب مرحوم کا نکاح مکرم منصور احمد صاحب مبشر پسر مکرم چوہدری مظفر الدین صاحب بنگالی حال ربوہ کے ساتھ دو ہزار روپیہ مہر پر قرار پایا ہے۔حضور اقدس نے ایجاب وقبول کے بعد دعا کرائی۔بعد دعا حضور نے دیکھا کہ چھوہارے مسجد میں ہی تقسیم ہو رہے ہیں حضور نے اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ مسجد میں چھوہارے ہرگز تقسیم نہ ہوں بلکہ مسجد کے دروازوں سے باہر تقسیم ہوں۔روز نامه الفضل ربوہ ۱۹ جولائی ۱۹۷۰ ء صفحہ ۴)