خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 526
خطبات ناصر جلد دہم ۵۲۶ خطبہ نکاح ۲۲ فروری ۱۹۷۰ء محترمہ تارہ نصر اللہ صاحبہ بنت مکرم محترم چوہدری نصر اللہ خاں صاحب مرحوم سمن آباد لا ہور کا نکاح محترم چوہدری داؤ د احمد صاحب پسر مکرم محترم چوہدری محمد اسلم صاحب ربوہ سے بعوض پانچ ہزار روپے حق مہر۔۷۔محترمہ نرگس با نو صاحبہ بنت مکرم محترم ملک عبد الباسط صاحب لاہور کا نکاح مکرم محترم مبشر احمد صاحب ظفر پسر مکرم محترم عطاء الرحمن صاحب ربوہ سے بعوض تین ہزار روپے حق مہر۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔آج پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت سی خوشیاں دکھائی ہیں۔اس وقت میں سات نکاحوں کا اعلان کروں گا۔اس موقع پر ہماری دلی خواہش بھی یہی ہوتی ہے اور ہمارے دل سے دعا بھی یہی نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی خوشحالی اور ساری ہی مسرتیں ہر دو کے لئے مقدر کرے۔اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے خوشحالی اور مسرت کے حصول کی جو شرط ہمارے کانوں میں ڈالی ہے وہ یہ ہے کہ مَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا (الاحزاب: ۷۲) دنیا میں ہر خوشی اور ہر مسرت کا میابی اور کامرانی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔کوئی احمق بھی اس دنیا میں نا کامی پر خوش نہیں ہوا کرتا۔خوشی ہوتی ہی اس وقت ہے جب انسان اپنے مقصد کو حاصل کر لیتا اور اپنی زندگی کی کسی دنیوی یا حقیقی جد و جہد میں کامیاب ہو جاتا ہے۔بعض کوششیں محض دنیوی ہوتی ہیں اور ان میں دین کا کوئی حصہ نہیں ہوا کرتا۔بعض ایسے کام ہیں کہ جو د نیوی بھی ہو سکتے ہیں۔محض دنیوی اور وہی نیت کے بدلنے سے، ماحول کے بدلنے سے اگر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کئے جائیں تو وہ دینی ہو جاتے ہیں۔دنیوی کامیابیوں کے نتیجہ میں دنیوی اور عارضی خوشیاں حاصل ہوتی ہیں۔دینی کامیابیوں اور کامرانیوں کے نتیجہ میں انسان کو حقیقی خوشی ، حقیقی فلاح اور حقیقی مسرت ملتی ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے سب عزیزوں کو جن کے نکاح کا آج اعلان ہو رہا ہے اور عام طور پر ہم میں سے ہر ایک کے لئے حقیقی خوشیاں مقدر کرے اور حقیقی کامیابیاں ہمارے نصیب میں ہوں۔