خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 516 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 516

خطبات ناصر جلد دہم ۵۱۶ خطبہ نکاح ۹ جنوری ۱۹۷۰ء خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اس وقت میں جن نکاحوں کا اعلان کروں گا ان میں سے دو نکاحوں کا تعلق ان دوستوں اور بزرگوں سے ہے جو ایک لحاظ سے میرے محسن بھی ہیں۔جس وقت میں انگلستان سے تعلیم ختم کر کے واپس آیا تو مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے میرے اس احتجاج کے باوجود جو احساس کم مائیگی سے نکلا تھا مجھے مجلس خدام الاحمدیہ کا صدر تجویز کر کے میرا نام صدارت کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں بھجوا دیا۔مجلس خدام الاحمدیہ میں جو کام کی توفیق اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی اس کے نتیجہ میں میں احمدی نوجوان سے اس طرح واقف ہوا کہ جو واقفیت کسی اور ذریعہ سے نہیں ہوسکتی تھی اور جو قدر و قیمت ایک احمدی نوجوان کی میں پہچانتا ہوں شاید ہی کوئی اور ہو جو اس قدر و قیمت کو پہچانتا ہو۔میں سمجھتا ہوں کہ اگرچہ میری طبیعت کا کوئی پہلو بھی اس وقت صدارت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھا لیکن جو کام میرے سپرد کیا گیا اس کے نتیجہ میں مجھے انتظامی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے بھی بہت فائدہ حاصل ہوا۔اس وقت کی مجلس عاملہ کے اراکین میں سے ایک رکن ( مکرم مولوی ظہور حسین صاحب) کے بیٹے کے نکاح کا اعلان اس وقت ہو رہا ہے۔میرے دوسرے محسن محترم چوہدری فتح محمد صاحب سیال ہیں جب میں انگلستان سے واپس آیا تو عمر کے لحاظ سے میں چھوٹا تھا اور گو تبلیغ کا جوش تو تھا لیکن تجربہ کوئی نہ تھا۔محترم چوہدری صاحب نے مجھ سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ مقامی تبلیغ کے دوروں پر جب بھی فرصت ہو جایا کرو۔چنانچہ میں نے ان کے ساتھ تبلیغی دوروں پر جانا شروع کر دیا۔اس سے ایک تجر بہ تو مجھے یہ حاصل ہوا کہ ایک عام دیہاتی مسلمان چاہے وہ کسی فرقہ سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہوطبیعت کا سادہ اور سعادت مندی کی روح اپنے اندر رکھتا ہے۔اگر صحیح طریق پر اس کے لیول (Level) اور اس کے مقام پر آکر بات کی جائے تو وہ بہت جلد اسے سمجھ لیتا ہے۔دوسرا بڑا فائدہ ان تبلیغی دوروں سے یہ ہوا کہ میری اپنی طبیعت میں فطرتی طور پر دیہات میں رہنے والوں سے جو لگاؤ تھا اس فطری جذبہ کو تجربہ کے ذریعہ ابھرنے کی توفیق ملی اور اپنے