خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 491
خطبات ناصر جلد دہم ۴۹۱ خطبہ نکاح ۲۶/اکتوبر ۱۹۶۹ء ساتھ میرے ذاتی تعلقات بھی ہیں۔مثلاً مکرم چوہدری محمد انور حسین صاحب امیر جماعت ہائے احمد یہ ضلع شیخو پورہ کی عزیز بچی کے نکاح کا اعلان کروں گا۔مکرم چوہدری صاحب کے ساتھ میرے پرانے برادرانہ اور دوستانہ تعلقات ہیں اور جہاں تک جذبات کا سوال ہے یہ لڑکی مجھے ایسی ہی عزیز ہے جیسے میری اپنی دو بچیاں۔اس بچی سے متعلق میرے جذبات میں اور اپنی دونوں بچیوں سے متعلق میرے جذبات میں مجھے کوئی فرق نظر نہیں آتا۔سو اس نکاح کے اعلان پر مجھے دو ہری خوشی ہوئی ہے ایک تو مکرم چوہدری صاحب کی بچی کا نکاح ہو رہا ہے اور ایک اس لئے کہ وہ لڑکی جذباتی لحاظ سے میری اپنی لڑکی ہے گویا میری اپنی لڑکی کا نکاح ہو رہا ہے۔غرض مجھے دو ہری خوشی ہوئی ہے۔اسی طرح میں اس وقت خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب مرحوم کی لڑکی عزیزہ منصورہ جبین کے نکاح کا اعلان کروں گا۔خان صاحب مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے ایک لمبے عرصہ تک خدمت دین کی توفیق دی ہے۔آپ بڑے دعا کرنے والے تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی خدمت کو قبول کیا۔آپ کی کوششوں کے ہم نے اچھے نتائج دیکھے ہیں۔میں خان صاحب کی بچی کو بھی اپنی ہی بچی سمجھتا ہوں۔اسی طرح میں مکرم مولوی عبدالرحیم صاحب درد کے لڑکے محمد عیسی کے نکاح کا اعلان کروں گا۔دردصاحب مرحوم کے تعلقات حضرت فضل عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بڑے ہی بے تکلفانہ اور برادرانہ تھے۔گھر کی مجالس میں آپ اور حضرت فضل عمر بڑے بے تکلف ماحول میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے تھے۔میں نے بسا اوقات آپ کو اور حضرت فضل عمر کو سنجیدہ باتوں پر غور کرتے اور لطائف سناتے دیکھا اس لئے یہ عزیز بھی ذاتی تعلقات کی وجہ سے میرے اپنے ہی عزیز بچوں کی طرح ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب رشتوں کو بہت ہی بابرکت کرے ہر دو افراد کے لئے بھی اور ہر دو خاندانوں کے لئے بھی۔اور ہمیں چونکہ بہت دور کی بات بھی سوچنی پڑے گی یعنی مستقبل کے لئے بھی ہمیں سوچنا پڑتا ہے۔اس لئے ہمیں اپنی بعد میں آنے والی نسلوں کی بھی فکر ہے۔