خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 454 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 454

خطبات ناصر جلد دہم ۴۵۴ خطبہ نکاح ۲۷ را پریل ۱۹۶۹ ء خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔آج چار خوشیاں اکٹھی ہوگئی ہیں۔یعنی آج چار نکاحوں کا اعلان ہورہا ہے۔اللہ تعالیٰ ان چاروں رشتوں کو حقیقی خوشیاں بنائے۔اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے جس کے یہ معنی بھی ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کے احکام کو بجالا کر اور ان حقوق کو ادا کرنے کے بعد جو اللہ تعالیٰ نے قائم کئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجائے کیونکہ جو شخص قانون شکن ہوتا ہے۔جو شخص قانون توڑتا ہے وہ قانون کی پناہ میں نہیں ہوتا بلکہ وہ قانون کی گرفت میں ہوتا ہے۔اسی طرح جو شخص اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ حقوق کو ادا نہیں کرتا وہ انہیں تو ڑتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں نہیں آتا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس بات پر بڑا زور دیا ہے کہ اگر تم اپنی زندگیوں کو خوشحال بنانا چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ تم ان حقوق کو ادا کرو جو اللہ تعالیٰ نے قائم کئے ہیں۔اس طرح تم اپنے آپ کو اللہ تعالی کی پناہ میں لے آؤ گے اور اس کے نتیجہ میں تمہاری زندگی خوشحال زندگی بن جائے گی۔بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ نہیں کرتے۔لیکن اپنا حق لینے کے لئے وہ ہر جائز اور ناجائز ذریعہ اور وسیلہ اختیار کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔اگر ہر مسلمان اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ کرے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر شخص کو اس کا حق مل جائے گا اور وہ مطمئن ہو جائے گا اس کا نفس تسلی پا جائے گا اور اس کی زندگی خوشحال ہو جائے گی۔نئے ازدواجی رشتے بہت سے حقوق قائم کرتے ہیں۔اگر ان حقوق کی ادائیگی کی طرف پوری توجہ کی جائے تو اس قسم کے ازدواجی رشتوں کے نتیجہ میں ان گھروں میں جن میں یہ رشتے قائم ہوتے ہیں بشاشت اور خوشحالی کا احساس پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بہت سی برکتیں انہیں حاصل ہوتی ہیں اور ایسے گھرانے خدا تعالیٰ کی پناہ میں آجاتے ہیں اور جو فرد یا گھرانہ خدا تعالیٰ کی پناہ میں آجائے اسے اور کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ہم سب کو دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہی ان حقوق کی ادائیگی کی توفیق عطا