خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 362
خطبات ناصر جلد دہم ۳۶۲ خطبہ نکاح ۳۰/اگست ۱۹۶۷ء اور عادات کو اپنے میاں کی خاطر چھوڑنا پڑتا ہے۔دنیا کے دو افراد کو اللہ تعالیٰ نے برابر نہیں بنایا۔ہر ایک میں کچھ نہ کچھ انفرادیت ہوتی ہے لیکن باوجود اس انفرادیت کے پھر بھی خدا تعالیٰ نے افراد انسانی کے حالات میں اتنی لچک رکھی ہے کہ وہ آپس میں مل کر کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں کی پسند ایک خواہش ایک اور طبیعت ایک ہے لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ہر ایک نے اپنی طبیعت پر جبر کیا ہوتا ہے اور اپنی بعض خواہشات کو د با یا ہوتا ہے اور وہ دونوں اس عزیز رشتہ کو کامیاب کرنے کے لئے ایک نظر آتے ہیں۔جہاں بھی آپ اس رشتہ کو کا میاب دیکھیں گے وہاں پس پردہ یہ قربانی بھی نظر آ رہی ہوگی۔جہاں یہ قربانی نہیں ہوتی وہاں رشتے کا میاب نہیں ہوتے۔جس نکاح کے اعلان کے لئے میں اس وقت کھڑا ہوا ہوں اس میں ایک خاندان ریاست کشمیر سے تعلق رکھتا ہے اور ایک خاندان سندھی ہے۔خدا کرے کہ یہ رشتہ دونوں خاندانوں کے لئے اور اسلام کے لئے مبارک ہو۔جب لوگ وسیع اور نیک راہ کو چھوڑ دیتے ہیں تو پھر وہ تنگ را ہیں اختیار کر لیتے ہیں۔مثلاً یہ کہ ہم اپنے خاندان میں ہی رشتے کریں گے۔اپنی قوم سے ہی تعلق رکھیں گے لیکن جب اللہ تعالیٰ کوئی سلسلہ قائم کرتا ہے تو پھر اس میں ایسی تنگ نظریوں کی گنجائش نہیں ہوتی پھر نہ خاندان کو دیکھا جاتا ہے اور نہ ہی قومیت کو اور اللہ تعالیٰ ان رشتوں کو با برکت بنا دیتا ہے۔خدا کرے کہ یہ رشتہ بھی ایسا ہی ثابت ہو۔روزنامه الفضل ربوه ۳ اکتوبر ۱۹۶۷ ء صفحه ۳)