خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 361 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 361

خطبات ناصر جلد دہم ۳۶۱ خطبہ نکاح ۳۰/اگست ۱۹۶۷ء وہی رشتہ کامیاب ہوتا ہے جس میں میاں بیوی ایک دوسرے کی خاطر قربانی کریں خطبہ نکاح فرموده ۳۰ را گست ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے از راہ شفقت عائشہ رحمان صاحبہ بنت حاجی عبدالرحمان صاحب باندھی کا نکاح محمد اسمعیل صاحب ابن میاں محمد ابراہیم صاحب ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول سے پڑھا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور دینی اور دنیوی کامیابی کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ انسان کی کوشش اور تدبیر میں کوئی بنیادی خامی باقی نہ رہے۔اگر انسان کچھ غفلت اور کوتاہیاں کرے تو اللہ کی مغفرت انہیں ڈھانپ دے اور انسان کے اعمال صحیح راستہ پر ہوں۔صالح ہوں۔وقت اور موقع کے مناسب ہوں۔جب کمزوریاں ڈھانپ دی جائیں اور اعمال ، اعمال صالحہ بن جائیں تب ہی انسان کامیاب ہوسکتا ہے۔یہ بنیادی اصول انسان کی زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھتا ہے۔نئے رشتے جو نکاح کے ذریعے جوڑے جاتے ہیں ان میں بھی یہی اصول چلتا ہے۔نہ کوئی خاوند ایسا ہوتا ہے۔جو ہر کمزوری اور کوتاہی سے پاک ہو اور نہ کوئی بیوی ایسی ہوتی ہے کہ وہ خاوند کی تمام خواہشوں اور پسندوں کے مطابق ہو۔میاں کو بھی اپنی کچھ عادات اور کچھ خواہشات کو چھوڑنا پڑتا ہے اور بیوی کو بھی اپنی بعض خواہشات