خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 313
خطبات ناصر جلد دہم ۳۱۳ خطبہ نکاح ۱۶ راگست ۱۹۶۶ء غور کرنے ، فکر اور تدبر کرنے میں خرچ کریں گے تاکہ خدا تعالیٰ کے فضل اور احسان سے ان علوم کے خزانوں اور معرفت اور حکمت کی باتوں کو ہم حاصل کر سکیں جو قرآن کریم میں کہیں ظاہر اور کہیں باطن طور پر رکھی گئی ہیں۔قرآن کریم ایک سنی جانے والی کتاب ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَاَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الاعراف: ۲۰۵) کہ جب قرآن کریم پڑھا جائے تو تم غور سے اسے سنا کرو اور خاموشی اختیار کیا کرو شاید کہ تم پر رحمت کے دروازے کھلیں۔اس آیت کے ایک تو ظاہری اور موٹے معنی ہیں جو یہ ہیں کہ جس وقت کسی مجلس میں قرآن کریم کی تلاوت ہو رہی ہو تو جو لوگ اس مجلس میں بیٹھے ہوں ان کا یہ فرض ہے کہ وہ غور سے قرآن کریم کی طرف متوجہ ہوں اور اسے سنیں اور اپنی باتوں میں مشغول نہ ہوں کہ رحمت کے دروازے اس سے بھی کھلتے ہیں۔لیکن اس کے ایک دوسرے معنے بھی ہیں اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرما یا چونکہ قرآن کریم کے غیر محدود خزا نے سارے ایک وقت میں بنی نوع انسان پر ظاہر نہیں کر دیئے جائیں گے بلکہ اس کے علوم اور معارف اور حکمتیں ہر زمانہ میں ، زمانہ کی ضرورت کے مطابق اور انسان کی استعداد کے مطابق دنیا پر ظاہر کئے جائیں گے اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت تک کے لئے جو یہ کامل اور مکمل کتاب (قرآن) تمہارے ہاتھ میں دی گئی ہے۔جب کبھی اللہ تعالیٰ کوئی ایسا شخص پیدا کرے جس کو وہ اپنے فضل اور احسان کے ساتھ علوم قرآنی سکھائے اور اسے کہے کہ تم یہ علوم دنیا کے سامنے پیش کرو تو اس وقت تمہارا یہ فرض ہے کہ اس کی باتوں کی طرف اور اس کی بتائی ہوئی تفسیر کی طرف کان دھرو اور اس کے مقابلہ میں اپنی ذوقی تفسیروں کو بھلا دو اور اس سلسلہ میں خاموشی اختیار کرو۔کیونکہ ایک تو وہ ہے جو خدا تعالیٰ سے حاصل کرتا ہے اور بنی نوع انسان تک پہنچاتا ہے اور اس کے مقابلہ میں وہ ہیں جو اپنی کوشش سے بعض باتیں استدلالی رنگ میں اور ذوقی رنگ میں قرآن کریم سے حاصل کرتے ہیں۔جب ان دو قسم کی تفاسیر کا آپس میں مقابلہ ہو تو امت مسلمہ کا یہ فرض قرار دیا گیا ہے کہ جہاں تک ان کی ذوقی تفسیر کا تعلق ہے وہ خاموشی کو اختیار کریں۔انصتوا الخ فرماتا ہے کہ اگر تم