خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 311
خطبات ناصر جلد دہم ۳۱۱ خطبہ نکاح ۱۶ راگست ۱۹۶۶ء قرآن کریم کے بتائے ہوئے راستے پر پوری توجہ اور طاقت کے ساتھ کار بند ہو جاؤ خطبه نکاح فرموده ۱۶ / اگست ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر مکرمہ قیصرہ پروین بنت چوہدری کرامت اللہ صاحب کا نکاح پندرہ ہزار روپیہ حق مہر پر مکرم محمد عمر نصر اللہ صاحب ولد چوہدری نصر اللہ خاں صاحب سے پڑھا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔جس نکاح کے اعلان کے لئے میں اس وقت کھڑا ہوا ہوں وہ میری ایک عزیز بچی کا ہے جس کے والد کے ساتھ سکول کے زمانہ سے میرے گہرے دوستانہ تعلقات رہے ہیں اور جو دولہا ہیں ان کے نانا صحابی تھے۔پھر اس حصہ خاندان کو دنیا نے اپنی طرف کھینچ لیا مگر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور یہ نو جوان امریکہ میں ذاتی تحقیق کے بعد خود احمدیت میں داخل ہوئے ہیں اس لئے ان کے ساتھ بھی میرے دل میں ایک گہرا تعلق پایا جاتا ہے اس لئے باوجود بیماری کے کہ دو دن سے مجھے پر انفلوئنزا کا شدید حملہ ہے اور گلا جیسا کہ آپ سن رہے ہیں قریباً بند ہے لیکن وعدہ بھی تھا اور خواہش بھی تھی اس لئے میں اس نکاح کے اعلان کے لئے کھڑا ہو گیا ہوں۔میں اپنے عزیز بچوں کو ایک بنیادی نصیحت کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم ایک پڑھی جانے والی کتاب بھی ہے۔قرآن کریم ایک ایسی کتاب بھی ہے جس پر ہمیشہ غور ہوتے رہنا چاہیے یا ہوتا رہتا ہے۔