خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 280
خطبات ناصر جلد دہم ۲۸۰ خطبہ نکاح ۶ رمئی ۱۹۶۶ء وہاں مخالفت بڑی ہوئی ہے اور بعض احمدی شہید بھی ہوئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں ثبات قدم عطا فرمایا ہے اور وہ پوری طرح احمدیت پر قائم ہیں۔تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ان کے بعض تفصیلی عقائد ٹھیک نہیں۔کیونکہ احمدیت کے متعلق انہیں علم بھی زیادہ نہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب بھی نہیں پڑھ سکتے۔اگر ان میں سے کسی کے پاس کتب ہیں بھی تو وہ ان کے سرورق پھاڑ دیتے ہیں۔لیکن باوجود اس کے احمدیت سے انہیں گہرا تعلق ، واسطہ اور لگاؤ ہے اور احمدیت کی محبت ان کے دلوں میں گھر کر چکی ہے۔سوجیسا کہ میں نے بتایا ہے۔ایک خاندان کا تعلق اس علاقہ سے ہے جو افغانستان کے نام سے موسوم ہے چونکہ اس ملک کو شروع سے ہی اللہ تعالیٰ نے اسلام سے مشرف کیا ہے۔اس لئے اس کے لئے دعائیں کرتے رہنا چاہیے۔دوسرے اس ملک کے رہنے والے ابھی پوری طرح مہذب نہیں بنے ظاہری تہذیب انہیں حاصل نہیں ہے۔ان میں تعصب انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔گونئی حکومت نے مادی ترقی کے ذریعہ سے ان کے حالات کو ایک حد تک درست کر دیا ہے۔لیکن اب بھی ان کے حالات ایسے نہیں۔جن حالات میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ان لوگوں میں رہنے والے احمدیوں کی زندگیاں پریشانی میں گذرتی ہیں۔وہ انتہائی ناسازگار حالات میں محض خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر اپنی زندگیاں بسر کر رہے ہیں۔اس لئے جماعت کو ان کے لئے بڑی کثرت سے دعائیں کرتے رہنا چاہیے۔افغانستان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بزرگ صحابہ کا خون بہایا گیا ہے۔ان شہداء کا خون رنگ لائے گالیکن ہمیں جہاں تدبیر سے کام لینا چاہیے وہاں دعاؤں پر بھی زور دینا چاہیے تا اللہ تعالیٰ وہ دن جلد لائے۔جب اس ملک کے رہنے والے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے نور اور اس کی روشنی کی ٹھنڈی شعاعوں سے منور ہوں۔اس سے حصہ پائیں اور اس کی تعلیم سے مستفیض ہوں۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقام کو جلد پہچان لیں اور ان میں احمدیت جلد پھیل جائے۔