خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 279
خطبات ناصر جلد دہم ۲۷۹ خطبہ نکاح ۶ رمئی ۱۹۶۶ء افغانستان میں مسیح موعود کے شہید صحابہ کا خون رنگ لائے گا خطبہ نکاح فرموده ۶ رمئی ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر مکرم سید تنویر احمد صاحب ابن مکرم سید علی احمد صاحب مرحوم کے نکاح کا ہمراہ کمال بی بی صاحبہ بنت مکرم غلام محمد خان صاحب بعوض مبلغ دو ہزار روپیہ مہر اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔جس نکاح کے اعلان کے لئے میں اس وقت کھڑا ہوا ہوں وہ دوا ایسے خاندانوں میں قرار پایا ہے۔جن میں سے ایک خاندان کا تعلق افغانستان سے ہے اور دوسرا سید خاندان ہے جو گو ہندوستان میں رہتا چلا آیا ہے۔لیکن دراصل عرب کے ملک سے تعلق رکھتا ہے۔افغانستان سے تعلق رکھنے والا خاندان احمدیت کے ساتھ تعلق پیدا ہونے کے نتیجہ میں یہاں آیا ہے اور غلام محمد خان صاحب جن کی بچی کا اس وقت نکاح ہو رہا ہے۔اپنے بچپن سے ہی قادیان میں رہتے رہے ہیں۔گووہ زیادہ ظاہری تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔لیکن احمدیت کی تعلیم انہوں نے اچھی طرح حاصل کی ہے اور اب تک ان کا تعلق افغانستان سے قائم ہے۔بوجہ اس کے کہ ان کے رشتہ داروہاں قیام پذیر ہیں۔ان کے علاقہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں احمدیت پھیلی تھی۔اگر چہ