خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 236
خطبات ناصر جلد دہم ۲۳۶ خطبہ نکاح ۲۸ نومبر ۱۹۶۵ء دوسرے کا خیال نہ رکھے۔ایثار اور قربانی سے کام نہ لے اور بعض دفعہ جذبات کو دبانے کے لئے بڑے صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔جذبات کو د با نا یا روکنا کوئی معمولی بات نہیں۔اللہ تعالیٰ نے دین اسلام میں اس بات کو واضح طور پر بیان فرمایا ہے کہ گھر کے امن اور خوشحالی کے حصول کا طریق کیا ہے؟ فرمایا ہم تمہیں ایک طریق بتاتے ہیں جس پر چلنے سے تمہیں یہ چیز حاصل ہو جائے گی۔وہ یہ کہ اس امر کے لئے جو کوشش بھی کرو ، جو قربانی بھی کرو اس کی بنیاد تقویٰ پر رکھو۔جب تم بعض خلاف طبیعت با تیں برداشت کرتے ہو اور اپنے اس رشتہ کو مضبوط کرنے کے لئے اور اپنے گھر کی فضا کو خوشگوار بنانے کی خاطر اپنی مرضی کو چھوڑ رہے ہوتے ہو تو تمہاری نیت یہ ہونی چاہیے کہ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو وہ مذہبی ذمہ داریاں جو ہم دونوں پر علیحدہ علیحدہ اور مشترکہ طور پر عائد ہوتی ہیں کیسے نبھا سکیں گے۔جب گھر کا ماحول پر امن اور پرسکون ہو تو اس صورت میں ہم بچے کی تربیت اور تعلیم کا انتظام صحیح طور پر کر سکیں گے اور ہماری یہ نیت کہ ہمارا بچہ خادم اسلام اور سچا مسلمان ہو ہم عمدگی سے پوری کرنے کا موقع پاسکیں گے۔ہم نے بہت سے بچے دیکھے ہیں جن کی تربیت صرف اس لئے خراب ہوئی کہ ان کے والدین کے آپس کے تعلقات اچھے نہ تھے اسی کا بُرا اثر پھر ان کی اولاد پر ہوا۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم مذہبی اور دینی ذمہ داریاں صحیح طور پر اسی وقت ادا کر سکتے ہو جب تم دونوں میاں بیوی کے تعلقات اچھے ہوں اور تعلقات اسی وقت اچھے ہو سکتے ہیں جب میاں بیوی تقوی سے کام لیں اور ان کے تمام امور کی بنیاد تقوئی ہو۔پچھلے دنوں میری بیگم منصورہ نے ایک خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ ہمارے گھر تشریف لائے ہیں۔آپ کے چہرہ پر گھبراہٹ کے کچھ آثار ہیں آگے آکر فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وصیت کی ہے کہ یہ الیسَ اللهُ بِكَافٍ عبده والی انگوٹھی جس ہاتھ میں پوری آ جائے اسے وہ شخص بوسہ دے۔میں نے خاندان کے سارے افراد کے ہاتھوں میں ڈال کر اسے دیکھا ہے کسی کی انگلی میں یہ پوری نہیں آئی۔پھر آپ نے وہ انگوٹھی منصورہ بیگم کے ہاتھ میں ڈالی تو پوری آگئی۔یہ دیکھ