خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 170
خطبات ناصر جلد دہم ۱۷۰ خطبہ عید الاضحیہ ۱۶ / جنوری ۱۹۷۳ء ہوگی۔نہ اپنے اس کے فیصلے ہوں گے۔نہ اپنا اس کا کوئی کلام ہوگا۔نہ اپنی اس کی کوئی آنکھیں ہوں گی نہ اپنے اس کے کوئی کان ہوں گے۔خدا تعالیٰ کے کانوں سے وہ سنے گا۔خدا تعالیٰ کی آنکھوں سے وہ دیکھے گا اور خدا تعالیٰ کی زبان سے وہ کلام کرے گا۔اس معنی میں نہیں کہ خدا اس کے وجود میں ظاہری طور پر حلول کر جائے گا بلکہ اس معنی میں کہ خدا کا بندہ اپنے نفس کی ہر خواہش کو، اس کے ہر جذ بہ کو اور اس کی ہر طاقت ، قوت اور استعداد کو اپنے رب کے لئے قربان کر دے گا۔تب خدا تعالیٰ اسے ایک نئی زندگی عطا کرے گا۔اس نئی زندگی میں اس سے جو حرکات سرزدہوں گی اور انسان جن قوتوں کا مظاہرہ کر رہا ہو گا اس کے متعلق ہم تمثیلی زبان میں یہ کہ سکتے ہیں کہ انسان نے خدا تعالیٰ کی آنکھ سے دیکھا۔خدا تعالیٰ کے کانوں سے اس نے سنا اور خدا تعالیٰ کے حواس سے اس نے معلوم کیا اور مشاہدہ کیا اور خدا تعالیٰ کی زبان سے اس کا بیان جاری ہوا۔یعنی اس کا اپنا کچھ نہیں۔سب کچھ اس نے خدا تعالیٰ کو پیش کر دیا۔انسان پر ایک موت تو وقتی طور پر آتی ہے جو ایک لحظہ کے اندر ختم ہونے والی ہے مگر ایک موت ایسی ہے جو انسان کی ساری زندگی کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے۔یہی وہ موت ہے جس کے منبع سے ابدی حیات کا چشمہ پھوٹا۔یہی وہ ذبح عظیم ہے جس کی مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کے ذریعہ سے قائم کی گئی اور پھر جب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں عشق الہی ، فدائیت، جاں نثاری انتہا کو پہنچی تو ایک ایسی قوم تیار ہوئی جو حضرت اسماعیل علیہ السلام سے زیادہ جذبہ قربانی رکھنے والی تھی جو حضرت اسماعیل علیہ السلام سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے عشق اور محبت رکھنے والی تھی۔کیونکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے تربیت حاصل کی تھی مگر صحابہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خود حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت حاصل کی تھی۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل روحانی طور پر مردہ تھے۔دنیا کی نگاہ انہیں مردہ سمجھتی تھی لیکن خدا تعالیٰ کی قدرت نے انہیں زندہ کیا تھا۔انہوں نے دنیا میں ایک انقلاب عظیم بپا کیا اور اس وقت کی محدود دنیا میں اسلام کو کلی طور پر غالب کیا۔محدود دنیا سے مراد معروف دنیا ہے کیونکہ اس وقت دنیا بنی نوع انسان سے معمور دنیا نہیں تھی۔کرہ ارض کے بہت سے ایسے علاقے بھی تھے جہاں تک ابھی انسان کا علم نہیں