خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 143
خطبات ناصر جلد دہم ۱۴۳ خطبہ عیدالاضحیہ ۱۷ / فروری ۱۹۷۰ء خدا تعالیٰ غیر محدود ہے نا ! تو اس کے قریب سے قریب تر ہوتے چلے جانے کے معنے ہی یہ ہیں کہ ایسی قوت ہو کہ جو غیر متناہی معارف کو حاصل کر سکے کیونکہ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا (فاطر: ٢٩) اللہ تعالیٰ کی معرفت اس کی محبت کا موجب بنتی ہے۔جو شخص کسی چیز کو جانتا ہی نہیں اس کے ساتھ اس کا تعلق ہی نہیں پیدا ہو سکتا۔تعلق محبت کے لئے بھی ضروری ہے ( بعض اور تعلقات بھی ہیں جن کے لئے جاننا ضروری ہے لیکن اللہ تعالیٰ تو حسنِ محض اور احسان محض ہے اس کی معرفت کے بغیر یعنی اس کے شیون اور اس کی صفات اور جس رنگ میں وہ اپنے عاجز اور کم مایہ بندوں سے پیار کرتا ہے وہ پہچان نہ ہو اس وقت تک اس کی محبت نہیں پیدا ہو سکتی۔یہ آہستہ آہستہ بڑھتی ہے اور غیر متناہی ترقیات کے دروازے کھولتی ہے۔پس انسانی روح کو یہ طاقت دی گئی ہے کہ وہ معارف غیر متناہیہ کو حاصل کر سکے۔اور روح کو جو تیسری قوت دی گئی ہے وہ محبت ذاتیہ الہیہ کی طاقت ہے یعنی انسان کی روح کو یہ طاقت ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے رب سے ذاتی محبت رکھ سکے۔دوسری مخلوق جو ہے اس میں اس قسم کی ذاتی محبت نہیں نظر آتی نہ عقلاً نظر آنی چاہیے لیکن انسان کی روح کو اللہ تعالیٰ نے یہ ایک طاقت دی ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے اللہ سے جو تمام خوبیوں کا مالک اور ہر قسم کے نقائص سے منزہ ہے اس سے ذاتی محبت رکھ سکے۔یعنی اس کے حسن کے جلوے اور اس کے احسان کی تجلیات اس طرح دیکھ سکے کہ ہر شے اس کے لئے کا لعدم ، لاشی محض ہو جائے اور خدا تعالیٰ کی محبت ہی محبت ہو جو اس کی زندگی ، جو اس کی جان کی جان اور روح کی روح بن جائے۔پس اس محبت ذاتیہ کے حصول کی طاقت اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہے۔انسان کی روح کے اندر یہ رکھی ہے اور انسان ان تین طاقتوں کے نتیجہ میں اپنے رب کے وجود کا اقرار اور اعلان کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے شیون کا علم غیر متناہی طور پر حاصل کر سکتا ہے اور معرفت الہیہ کے غیر متناہی دروازے اس پر کھل سکتے ہیں یہ اس کے اندر طاقت ہے اور جتنا جتنا عرفان وہ حاصل کرتا چلا جاتا ہے اتنا اتنا قرب الہی اس کو ملتا چلا جاتا ہے اور محبت ذا تنیہ پیدا ہوتی ہے۔