خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 113
خطبات ناصر جلد دہم ۱۱۳ خطبہ عیدالفطر ۲/اگست ۱۹۸۱ء ہماری اصل عید یہ ہے کہ ہم پر پہلے سے بڑھ کر برکتیں آسمان سے نازل ہو رہی ہیں خطبہ عید الفطر فرموده ۲ /اگست ۱۹۸۱ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔آج عید ہے۔عید کی ساری ہی خوشیاں آپ کو مبارک ہوں آج عید الفطر ہے۔عید الفطر کے ساتھ تعلق رکھنے والے سارے ہی وعدے آپ کے حق میں ثابت ہوں۔آمین۔اللہ تعالیٰ کی انسانوں کے ساتھ یہ سنت ہے اپنے سلوک میں کہ وہ صوم “ اور ”فطر باری باری ان کی زندگیوں میں لاتا ہے۔یعنی قربانیوں کا زمانہ اور قبولیت قربانی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے انعام کی کثرت کا زمانہ یہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔آگے پیچھے بھی چلتے ہیں اور ساتھ ساتھ بھی چلتے ہیں۔اس حقیقت اور اللہ تعالیٰ کا جو سلوک ہے انسان کے ساتھ اس کی فلاسفی پر تو میں تفصیل سے اس وقت بات نہیں کروں گا۔جو بات میں اس وقت کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے پچھلے خطبہ میں آپ کو بتایا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بعثت کے ساتھ انسانی زندگی میں ایک حقیقی ، سچا ، عالمگیر عظیم انقلاب بپا ہوا ایسا کہ نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ آئندہ کبھی ہوسکتا تھا پہلے اس لئے نہیں ہوا کہ جو انبیاء علیہم السلام انسانی زندگی میں انقلاب بپا کرنے کے لئے مبعوث ہوئے ، جو تعلیم وہ لے کر آئے وہ کامل نہیں تھی۔اس لئے جو انقلاب ان کی وجہ سے بپا ہوا 66