خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 95
خطبات ناصر جلد دہم ۹۵ خطبہ عیدالفطر ۴ رستمبر ۱۹۷۸ء بار بار آتا ہے اور جو شیطان ہے اس کو خدا تعالیٰ نے پہلے دن سے اجازت دی ہے ، وہ بار بار حملے کرتا ہے اور وہ اجتماعی عیدیں مناتے ہیں مثلاً ہر بزرگ جو دنیا میں مختلف اوقات میں مختلف علاقوں میں بدعات کے خلاف جہاد کرنے کے لئے کھڑا ہوا اور کامیاب ہوا وہ اس علاقہ کے مسلمانوں کے لئے بڑی زبردست عید کا دن تھا۔بڑی خوشیوں کا دن تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بدعات کے خلاف جہاد میں ان کو کامیاب کیا اور ان کی کوششوں کو اور قربانیوں کو اور ایثار کو اور ان کے اس فعل کو کہ انہوں نے اپنی جانیں خدا تعالیٰ کے حضور، دین کو قائم کرنے کے لئے پیش کی تھیں، قبول کیا۔اس قبولیت کے بعد جو دن ان کے اوپر آئے وہ قربانیوں کے دن تھے۔ہماری تاریخ میں یہ عیدیں بھی علاقے علاقے میں ، قوم قوم میں بکھری ہوئی ہیں یہاں تک کہ ہمارے زمانے میں ( سید نا حضرت اقدس) کی بعثت ہوئی اور اس کے ساتھ غلبہ اسلام کا ایک عظیم جہاد شروع ہو گیا۔اس وقت سے اب تک جب بھی خدا تعالیٰ اپنے خاص فضلوں اور نشانوں کے ساتھ غلبہ اسلام کی شاہراہ پر جماعت احمدیہ کا ایک قدم اور آگے بڑھاتا ہے، ہمارے لئے ایک اجتماعی عید کا دن ہوتا ہے۔( سید نا حضرت اقدس) کے خلاف ساری دنیا اکٹھی ہوگئی کیا مسلمان اور کیا عیسائی ، کیا ہندو اور کیا سکھ ،سب کے سب مخالف ہو گئے۔اس وقت کون تھا جس نے آپ کا ساتھ دیا۔کوئی نہیں تھا۔آپ اکیلے تھے مگر خدا تعالیٰ جو ساری طاقتوں کا مالک ہے وہ آپ کے پیچھے کھڑا تھا اور ایسا بار بار ہوتا رہا ہماری ساری تاریخ ان واقعات سے بھری پڑی ہے۔ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ ایک دفعہ آپ دہلی تشریف لے گئے۔آپ کے ساتھ آپ کے بارہ ساتھی تھے۔وہاں کے علماء نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ مناظرہ کریں، تقاریر ہوں گی۔آپ نے کہا میں تمہارا مہمان ہوں۔تم حفظ امن کی ذمہ داری لو تو ٹھیک ہے۔تم جہاں کہو میں آ جاؤں گا۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے آپ ہمارے مہمان ہیں۔ہم ذمہ دار ہیں کہ کوئی بدامنی نہیں پیدا ہو گی۔چنانچہ وقت مقرر کیا اور عین اس وقت جب آپ کوٹھی میں تھے ( یہ پرانے زمانے کی ایک حویلی تھی جس کے دو احاطے تھے یعنی باہر کی بھی دیوار تھی اور پھر اندر زنانہ حصہ کی بھی دیوار تھی وہاں رہتا کوئی نہیں تھا۔آپ ہی وہاں