خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 89 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 89

خطبات ناصر جلد دہم ۸۹ خطبہ عیدالفطر ۴ رستمبر ۱۹۷۸ء عید کی خوشی معمول سے زیادہ قربانیاں پیش کرنے کے بعد عطا کی جاتی ہے خطبہ عید الفطر فرموده ۴ رستمبر ۱۹۷۸ء بمقام مسجد فضل لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔آج عید ہے آپ کو اور ساری دنیا میں بسنے والے احمدیوں کو عید مبارک ہو اور جو عید کی خوشیوں سے محروم ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے لئے بھی عید کی برکتوں کے سامان پیدا کرے۔عید عربی کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں بار بار آنے والی خوشی۔لغوی لحاظ سے اس سے زیادہ اس کے معنی نہیں۔اسلامی اصطلاح میں بار بار آنے والی تین عیدوں کا ذکر ہے ایک عید الفطر ہے۔ایک عید النحر ہے۔عید الفطر رمضان کے بعد آتی ہے جو آج ہم منا رہے ہیں اور دوسری قربانیوں کی عید ہے جو حج کے موقع پر آتی ہے اور تیسرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر جمعہ بھی مومن کے لئے عید ہوتا ہے۔پس عید اصطلاحی معنوں میں بار بار آنے والی خوشی کو کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہماری عید یہ ہے کہ مل جل کر خوشی منائیں اور اپنی طاقت اور استعداد کے اندر اچھے کھانے کھائیں، اچھے کپڑے پہنیں۔اس میں ایک سبق تو ہمیں یہ دیا گیا ہے کہ حقیقت یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کے بغیر انسان کو کھانا بھی نہیں کھانا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ہمیں