خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 79
خطبات ناصر جلد دہم ۷۹ خطبہ عیدالفطر ۷ اکتوبر ۱۹۷۵ء ہم جو آج خوش ہیں تو اس لئے نہیں کہ ہمیں حکم ملا ہے کہ اچھے کپڑے پہنو اور حسب توفیق اچھے کھانے کھاؤ بلکہ اصل خوشی تو خدا کی اطاعت میں ہے۔جب وہ کہتا ہے کہ خوش ہو تو ہم خوش ہوتے ہیں۔اس زمانہ میں اس نے کہا ہے کہ خوش ہو کیونکہ اسلام کے غلبہ کے دن آگئے ہیں۔پس ہم خوش ہیں اس لئے کہ خدا نے ہمیں خوش ہونے کا حکم دیا ہے اور اس لئے کہ اس کی بشارتوں کے بموجب غلبہ اسلام کے آثار دن بدن نمایاں ہورہے ہیں۔اسی تسلسل میں حضور انور نے مزید فرمایا :۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کے لئے ہمیں منتخب فرمایا ہے اس لئے اس نے ہمیں دوسروں کو دکھ دینے کے لئے نہیں بلکہ سکھ پہنچانے کے لئے پیدا کیا ہے، اس نے ہمیں دوسروں کو مارنے کے لئے نہیں بلکہ زندہ کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔ہمارے سپرد یہ کام ہوا ہے کہ ہم محبت سے، پیار سے دنیا کے سارے انسانوں کے دل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتیں اور اس طرح انہیں ایک نئی زندگی سے ہم کنار کرنے کا وسیلہ بنیں۔اصل میں تو یہ کام اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت اس کے فرشتے کر رہے ہیں اور فرشتے اجر وثواب سے بے نیاز ہیں۔جب خدائی منشا کے تحت اس کے منتخب بندوں کی تھوڑی سی کوشش فرشتوں کی کوششوں میں شامل ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کی کوششوں سمیت سارے کا سارا ثواب اپنے منتخب بندوں کو دے دیتا ہے۔حضور انور نے اس امر کو واضح کرنے کے لئے کہ ہمارے واسطے غلبہ اسلام کی مہم میں حصہ دار بننے اور اجر وثواب کا مستحق قرار پانے کے لئے اپنے قربانی کے معیار کوکس حد تک بلند کرناضروری ہے فرمایا:۔بہت خوش قسمت تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ، انہوں نے جس صداقت کو قبول کیا تھا اور قربانی و ایثار کے جس مسلک کو اپنے لئے پسند کیا تھا اسے آخر دم تک نہیں چھوڑا اور ہر قسم کی قربانیاں دے کر اس پر دوام اختیار کئے رکھا۔جو برکات اور جو افضال وانعامات صحا بہ رضی اللہ عنہم کو ملے وہی برکات اور وہی افضال وانعامات پانے کا آج ہمیں موقع دیا گیا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔ع صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا