خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 610 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 610

610 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم عہدے داران شامل تھے۔خاکسار نے پوپ کو ( میر الکھتے ہیں کہ) حضور کا خط پہنچایا اور انہیں بتایا کہ اس میں حضرت امام جماعت احمد یہ عالمگیر کا بہت اہم پیغام ہے۔انہوں نے یہ خط خود اپنے ہاتھ سے وصول کیا۔اسی طرح میں نے اُنہیں اٹالین ترجمہ قرآن کا بھی ایک نسخہ پیش کیا۔اٹالین اور اسرائیل ٹی وی نے نیز اٹالین اخبارات اور اسرائیل کے عربی اور عبرانی اخبارات نے خاکسار کی تصویریں پوپ کے ساتھ نشر کیں۔ملاقات کے بعد ویٹیکن ریڈیو پر ایک پر یس کا نفرنس تھی میں نے اس میں حضور کے خط کا ذکر کیا اور خلاصہ بیان کیا اور صحافیوں میں اس خط کی کاپیاں تقسیم کیں۔اسی طرح میں نے ویٹیکن میں مشرق وسطی میں موجود چرچز (Churches) کے ذمہ دار کارڈینل وغیرہ کو بھی کاپی مہیا کی۔میں نے یہاں مذاکرات بین المذاہب کی کمیٹی سے بھی ملاقات کی اور انہوں نے مجھے اپنی کا نفرنس میں بلانے کے لئے مجھے سے ایڈریس بھی لیا۔ان کی انگلی کا نفرنس آئندہ سال سرائیو میں ہو گی۔جو خط میں نے پوپ کو لکھا تھا اُس کا خلاصہ یہ ہے پہلے کچھ دعائیہ کلمات تھے ، پھر قرآنِ کریم کی یہ آیت تھی کہ قُلْ يَاهْلَ الْكِتَب تَعَالَوْا إِلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَ لَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ ( آل عمران : 65) کہ تو کہہ دے اے اہل کتاب! اس کلمہ کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی چیز کو اس کا شریک ٹھہرائیں گے اور ہم میں سے کوئی کسی دوسرے کو اللہ کے سوارب نہیں بنائے گا۔پھر اس کا میں نے ذکر کیا تھا ( خلاصہ بیان کر رہا ہوں ) کہ آجکل اسلام اس لحاظ سے دنیا کی نظر میں ہے کہ اُس کی تعلیم کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔گو بعض مسلمانوں کے عمل اس کی وجہ ہیں لیکن جس وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے بالکل غلط ہے اور بعض مسلمان لوگوں کے جو غلط عمل ہیں اُن کی وجہ سے پڑھے لکھے لوگ بھی اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کرنے سے نہیں چوکتے۔جس طرح کہ ہر مذہب کے بانی کی تعلیم ہے یا ہر مذہب کی تعلیم ہے کہ اس کا مقصد بندے کو خدا سے ملانا ہے اسی طرح اسلام کی تعلیم ہے اور بڑھ کر ہے۔پس چند لوگوں کے غلط عمل کی وجہ سے اسلام پر غلط قسم کے حملے نہیں ہونے چاہئیں۔اسلام ہمیں تمام انبیاء کی عزت کرنا سکھاتا ہے ، اُن انبیاء کا جن کا ذکر بائبل میں بھی ہے اور قرآنِ کریم میں بھی۔ہم جو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاجز غلام ہیں، ہمیں بڑی شدید تکلیف پہنچتی ہے جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر حملے کئے جاتے ہیں۔ہم ان حملوں کا جواب دیتے ہیں لیکن آپ کی خوبصورت تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش کر کے۔قرآنِ کریم کی تعلیم دنیا کے سامنے رکھ کر جو پیار محبت اور بھائی چارے کی تعلیم ہے۔اسلام کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ تقویٰ پر قدم مارو اور یہی آواز اس کو پھیلانے کے لئے ہماری مسجدوں سے پانچ وقت گو نجتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کی جاتی ہے اور یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔پھر آگے یہ بھی لکھا کہ آجکل دنیا کے امن کی بربادی اس لئے ہے کہ آزادی خیال اور ضمیر کی آڑ میں بعض لوگ ایک دوسرے کے جذبات سے کھیلتے ہیں اور مذہبی طور پر بھی تکلیف پہنچائی جاتی ہے۔آجکل دنیا