خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 609 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 609

609 خطبات مسرور جلد نهم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2011ء سے نہیں بلکہ صرف دعا کے ذریعے ہلاک ہوں گے۔اس بیان پر میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھتا جو کہ فساد کو ہوا دیتی ہو یا باعث فساد ہو۔اس لئے مجھے کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ میں احمدیہ مسلم جماعت کے خلاف کوئی قدم اُٹھاؤں۔پھر تیسر اسوال اُس نے کیا تھا کہ احمدیہ مسلم کمیونٹی ہالینڈ کا عالمگیر جماعت احمد یہ مسلمہ اور مسرور احمد سے کیا تعلق ہے ؟ اس ڈچ وزیر نے جواب دیا کہ احمدیہ مسلم جماعت ہالینڈ عالمگیر جماعت احمد یہ مسلمہ کا ہی ایک حصہ ہے۔تو یہ ہے اُن کا جواب۔پس یہ اُن لوگوں کی انصاف پسندی ہے۔ایک سیاستدان جو پارٹی کا لیڈر بھی ہے، ممبر آف پارلیمنٹ بھی ہے اور پھر اُن کا اپنا ہم مذہب ہے۔جب سوال اُٹھاتا ہے تو اُس کے سوالوں کا انصاف پر مبنی جواب دیا جاتا ہے۔سنا ہے ولڈر صاحب اب جماعت کے بارے میں مزید تحقیق کر رہے ہیں کہ کس طرح جماعت کے منفی پہلو حاصل کریں۔لیکن یہ مخالفین جتنا چاہے زور لگا لیں یہ البہی جماعت ہے اور ہمیشہ وہی بات کرتی ہے جو حق ہو اور صداقت ہو۔اور اس میں سے یہی کچھ اُن کو نظر آئے گا۔پس ہمیں تو اس زمانے کے امام نے اسلام کا پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے اور دشمن کا منہ دلائل سے بند کرنے کا فریضہ سونپا ہے اور اپنی اپنی بساط اور کوشش کے مطابق ہر احمدی اس کام کو سر انجام دے رہا ہے۔اور جہاں اسلام پر دشمنانِ اسلام کو حملہ آور دیکھتا ہے وہاں احمدی ہے جو دفاع بھی کرتا ہے اور منہ توڑ جواب بھی دیتا ہے۔دنیا کو سمجھاتا بھی ہے۔اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ہی ملی ہوئی علم و معرفت ہے جس کو ہم استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہر احمدی بغیر کسی احساس کمتری کے بڑے بڑے لیڈروں اور مذہبی سر براہوں کو بھی اسلام کا پیغام پہنچا رہا ہے۔دوسرے اگر لیڈروں کو ملنے جاتے ہیں تو مدد لینے جاتے ہیں یا دنیاوی مفادات لینے جاتے ہیں۔کبھی اسلام کا پیغام پہنچانے کی جرات نہیں کرتے۔ابھی گزشتہ دنوں ہمارے کہا بیر کے امیر صاحب کو ایک وفد کے ساتھ اٹلی جانے کا موقع ملا۔جانے سے پہلے انہوں نے مجھے بھی کہا کہ یہ جو وفد جارہا ہے اُس میں کیونکہ ہر مذہب کے لوگ انہوں نے رکھے ہیں اور ایک ایسی مذہبی تقریب پیدا ہو رہی ہے کہ پوپ سے بھی ملاقات ہو گی بلکہ پوپ کے بلانے پر جارہے ہیں اس لئے اگر مناسب سمجھیں تو آپ کی طرف سے اُسے کوئی پیغام دے دوں اور قرآنِ کریم کا تحفہ بھی دے دوں۔تو میں نے انہیں کہا کہ بڑی اچھی بات ہے ضرور دیں۔چنانچہ انہیں میں نے یہاں سے اپنا پیغام لکھ کر بھجوایا کہ پوپ کو جاکے دے دیں۔اُس کی انہوں نے کا پیاں بھی کروا لیں اور وہاں جب وہ گئے ہیں تو پوپ کو بھی دیا اور ویٹیکن کے اور بڑے بڑے پادری جو تھے اُن کو بھی دیا۔قرآنِ کریم کا تحفہ بھی پوپ کو دیا۔اس کی تصویر بھی وہاں اخباروں میں آئی۔اُن کی رپورٹ کا ایک حصہ میں سناتا ہوں جو اُس کے بعد شریف اودے صاحب نے لکھی۔وہ لکھتے ہیں کہ خاکسار نے اٹلی میں پوپ کی رہائش گاہ ویٹیکن میں مورخہ 10۔11۔2011 کو اُن مذہبی لوگوں کے گروپ کے ساتھ ملاقات کی جن میں اسرائیل کے حاخام اعظم جو اُن کے بہت بڑے رہائی ہیں اور کچھ عیسائی اور یہودی اور مسلمان