خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 600 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 600

خطبات مسرور جلد نهم 600 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 دسمبر 2011ء آپ ( یعنی حضرت علیؓ) بڑے متقی اور پاک صاف تھے اور اُن لوگوں میں سے تھے جو خدائے رحمان کے سب سے پیارے ہیں اور اچھے خاندانوں والے تھے اور زمانے کے سرداروں میں سے تھے۔غالب خدا کے شیر اور مہربان خدا کے نوجوان تھے۔بہت سخی اور صاف دل تھے۔آپ وہ منفر د بہادر تھے جو مرکز میدان سے نہیں ہٹتے تھے خواہ آپ کے مقابل پر دشمنوں کی ایک فوج ہی کیوں نہ ہو۔آپ نے کسمپرسی کی زندگی بھی بسر کی اور نوع انسانی کی پرہیز گاری میں مقام کمال تک پہنچے۔اور آپ مال و دولت عطا کرنے، غم و ہم دور کرنے اور یتیموں، مسکینوں اور پڑوسیوں کی دیکھ بھال کرنے والے پہلے شخص تھے اور مختلف معرکوں میں آپ سے بہادری کے کار نامے ظاہر ہوتے تھے۔اور آپ تلوار اور نیزے کی جنگ میں عجائب باتوں کے مظہر تھے۔اور اس کے ساتھ ہی آپ شیریں بیان اور فصیح اللسان تھے۔( بڑے خوبصورت بیان کرتے تھے ) اور آپ اپنے کلام کو دلوں کی تہ میں داخل کرتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ اس ذریعے سے ذہنوں کے زنگ کو دور کرتے اور اس کے مطلع کو دلیل کے نور سے منور کرتے تھے اور آپ ہر قسم کے اسلوب میں قادر تھے۔اور جو کوئی آپ سے کسی معاملے میں فاضل ہو تا بھی، تو وہ بھی آپ کی طرف مغلوب کی طرح معذرت کرتا ہوا نظر آتا“۔(یعنی پڑھے لکھے لوگ بھی آپ کے سامنے کچھ حیثیت نہیں رکھتے تھے ) اور آپ ہر خوبی اور فصاحت و بلاغت کی راہوں پر کامل تھے اور جس نے آپ کے کمال کا انکار کیا تو گویاوہ بے حیائی کے رستے پر چل پڑا۔(اردو ترجمه از عربی عبارت، سر الخلافہ ، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 358) پھر صحابہ رضوان اللہ علیھم کا مجموعی طور پر ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔میں پھر صحابہ کی حالت کو نظیر کے طور پر پیش کر کے کہتا ہوں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر اپنی عملی حالت میں دکھایا کہ وہ خدا جو غیب الغیب ہستی ہے اور جو باطل پرست مخلوق کی نظروں سے پوشیدہ اور نہاں ہے۔انہوں نے اپنی آنکھ سے ، ہاں آنکھ سے ، ہاں آنکھ سے دیکھ لیا ہے۔ورنہ بتاؤ تو سہی کہ وہ کیا بات تھی جس نے اُن کو ذرا بھی پروا نہیں ہونے دی کہ قوم چھوڑی، ملک چھوڑا، جائیدادیں چھوڑیں، احباب اور رشتہ داروں سے قطع تعلق کیا۔وہ صرف خدا ہی پر بھروسہ تھا اور ایک خدا پر بھروسہ کر کے انہوں نے وہ کر کے دکھایا کہ اگر تاریخ کی ورق گردانی کریں تو انسان حیرت اور تعجب سے بھر جاتا ہے۔ایمان تھا اور صرف ایمان تھا اور کچھ نہ تھا ورنہ بالمقابل دنیاداروں کے منصوبے اور تدابیر اور پوری کوششیں اور سر گرمیاں تھیں پر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔“ (یعنی دنیا دار کامیاب نہ ہو سکے۔ان کی تعداد، جماعت ، دولت سب کچھ زیادہ تھا مگر ایمان نہ تھا“۔( غیروں میں) ” اور صرف ایمان ہی کے نہ ہونے کی وجہ سے وہ ہلاک ہوئے اور کامیابی کی صورت نہ دیکھ سکے۔مگر صحابہ نے ایمانی قوت سے سب کو جیت لیا۔انہوں نے جب ایک شخص کی آواز سنی جس نے باوصفیکہ اُمّی ہونے کی حالت میں پرورش پائی تھی مگر اپنے صدق اور امانت اور راستبازی میں شہرت یافتہ تھا، جب اس نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں یہ سنتے ہی ساتھ ہو گئے اور پھر دیوانوں کی طرح اُس کے پیچھے چلے۔میں پھر کہتا ہوں کہ وہ صرف ایک ہی بات تھی جس نے اُن کی یہ حالت بنادی اور وہ ایمان تھا۔یادر کھو! خدا پر ایمان بڑی چیز ہے“۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 408،407 مطبوعہ ربوہ)