خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 576
576 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم اپنے بھائی کے سمجھانے کے بعد وہ خاموش سی ہو گئیں جیسے کوئی حیران ہوتا ہے۔وہ موت سے ناواقف تھیں۔وہ موت کو صرف دوسروں سے سن کر سمجھ سکتی تھیں۔نامعلوم اس کے بھائی نے اُسے کیا سمجھایا کہ وہ نہ روئی، نہ چیچنی، نہ چلائی، وہ خاموش پھر تی رہی اور جب سارہ بیگم کی لاش کو چارپائی پر رکھا گیا اور جماعت کی مستورات جو جمع ہو گئی تھیں، رونے لگیں تو ( صاحبزادی امتہ النصیر) کہنے لگی کہ میری امی تو سو رہی ہیں یہ کیوں روتی ہیں؟ میری امی جب جاگیں گیں تو میں ان سے کہوں گی کہ آپ سوئی تھیں اور عور تیں آپ کے سرہانے بیٹھ کر روتی تھیں۔جب ان کی والدہ کی وفات ہوئی ہے تو حضرت مصلح موعودؓ سفر پر تھے اور پیچھے سے اُن کی تدفین ہو گئی تھی۔حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ جب میں سفر سے واپس آیا اور امتہ النصیر کو پیار کیا تو اس کی آنکھیں پر نم تھیں لیکن وہ روئی نہیں۔میں نے اُسے گلے لگا کر پیار کیا مگر وہ پھر بھی نہیں روئی۔حتی کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اُسے نہیں معلوم کہ موت کیا چیز ہے۔مگر نہیں یہ میری غلطی تھی۔یہ لڑکی مجھے ایک اور سبق دے رہی تھی۔سارہ بیگم دارالا نوار کے نئے مکان میں فوت ہوئیں۔جب ہم اپنے اصلی گھر دار المسیح میں واپس آئے تو معلوم ہوا اُس کے پاؤں میں بوٹ نہیں۔ایک شخص کو بوٹ لانے کے لئے کہا گیا۔وہ بوٹ لے کر دکھانے کے لئے لایا تو میں نے امۃ النصیر سے کہا تم پسند کر لو۔جو بوٹ تمہیں پسند ہو وہ لے لو۔وہ دو قدم تو بے دھیان چلی گئی پھر یکدم رکی اور ایک عجیب حیرت ناک چہرے سے ایک دفعہ اُس نے میری طرف دیکھا اور ایک دفعہ اپنی بڑی والدہ کی طرف ( یعنی حضرت اُم ناصر کی طرف) جس کا یہ مفہوم تھا کہ تم تو کہتے ہو جو بوٹ پسند ہو وہ لے لو مگر میری ماں تو فوت ہو چکی ہے۔مجھے بوٹ لے کر کون دے گا؟ حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ اُس حالت میں وفور جذبات سے اُس وقت مجھے یقین تھا کہ میں نے بات کی، یہاں وہاں ٹھہرارہا تو آنسو میری آنکھوں سے ٹپک پڑیں گے۔اس لئے میں نے فور آمنہ پھیر لیا اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے چل دیا کہ بوٹ اپنی امی جان کے پاس لے جاؤ۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی لکھتے ہیں کہ ہمارے گھر میں سب بچے اپنی ماؤں کو امی کہتے ہیں اور میری بڑی بیوی ام ناصر کو امی جان کہتے ہیں تو میں نے جاتے ہوئے مڑ کر دیکھا تو امۃ النصیر اپنے جذبات پر قابو پا چکی تھیں۔وہ نہایت استقلال سے بوٹ اُٹھائے اپنی امی جان کی طرف جارہی تھی۔بعد کے حالات نے اس امر کی تصدیق کر دی کہ وہ اپنی والدہ کے وفات کے حادثے کو باوجود چھوٹی عمر کے خوب سمجھتی ہے۔(ماخوذ از میری سارہ ، انوار العلوم جلد نمبر 13 صفحہ 186-187) پھر حضرت خلیفہ ثانی اُن کے لئے دعا کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس ننھی سی کلی کو مرجھا جانے سے محفوظ رکھے۔وہ اس چھوٹے سے دل کو اپنی رحمت کے پانی سے سیراب کرے اور اپنے خیالات اور اچھے افکار اور اچھے جذبات کی کھیتی بنائے جس کے پھل ایک عالم کو زندگی بخش، ایک دنیا کے لئے موجب برکت ثابت ہوں۔ارحم الراحمین خدا تو جو دلوں کو دیکھتا ہے، جانتا ہے کہ یہ بچی کس طرح صبر سے اپنے جذبات کو دبارہی ہے تیری صفات کا علم تو نا معلوم اسے ہے یا نہیں مگر تیرے حکم پر تو وہ ہم سے بھی زیادہ بہادری سے عامل ہے۔اے مغیث ! میں تیرے سامنے فریادی ہوں کہ اس کے دل کو حوادث کی آندھیوں کے اثر سے محفوظ رکھ۔جس طرح اُس نے