خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 553
خطبات مسرور جلد نهم 553 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 نومبر 2011ء پہلے تین ریجن جو ہیں ان میں لنڈن ریجن پہلے نمبر پر، پھر نارتھ ایسٹ ریجن اور پھر مڈلینڈ ریجن ہے۔ادا ئیگی کے لحاظ سے پہلی پانچ چھوٹی جماعتیں۔براملے اور لیو شم، لیمنگٹن سپا، وولور ہیمپٹن، سپن ویلی اور کیتھلے ہیں۔وصولی کے لحاظ سے کینیڈا کی جماعتیں ایڈ منٹن، وان ویسٹ، پیس و پیج ویسٹ، سرے ایسٹ اور سکاٹون ہیں۔انڈیا کا گو چھٹا نمبر ہے لیکن نام اس لئے لے رہا ہوں کہ یہ وہ جگہ ہے جس میں قادیان بھی ہے اور اس جگہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے۔آپ کا شہر وہاں ہے۔انڈیا کی جو جماعتیں ہیں اس کے صوبہ جات میں کیرالہ پہلے نمبر پر رہا ہے ، تامل ناڈو دو نمبر پر، آندرا پر دیش، جموں کشمیر ، بنگال، کرناٹک، اڑیسہ ، پنجاب، یوپی اور دہلی ہیں۔جبکہ جماعتوں میں کیرولائی، کالی کٹ، حیدرآباد، کلکتہ ، کنانور ٹاؤن، قادیان نمبر چھ پر، کو ئمبٹور، چنائی ، پینگاڈی اور دہلی ہیں۔اس دفعہ بعض جماعتوں نے اپنے چندوں میں کیونکہ غیر معمولی اضافے کئے ہیں اس لئے اگر چہ تحریک جدید کا جو چندہ ہے یہ مرکزی چندہ ہوتا ہے اس میں مقامی ملکی جماعت کا کوئی حصہ نہیں ہوتا اور مرکز کے جو پر اجیکٹ ہیں وہ انڈیا میں بھی ہیں اور باقی غریب ممالک افریقہ میں ہیں یا جو مرکزی اخراجات ہیں وہ اس سے پورے کئے جاتے ہیں لیکن اس دفعہ ان کی غیر معمولی وصولیوں کی وجہ سے جو امریکہ نے بھی تقریباً ایک لاکھ اٹھاسی ہزار پاؤنڈ کا غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔اس لئے ان کی ڈالروں کی جور قسم ہے اس میں سے ویسے تو ان کو حق نہیں لیکن ان کو میں اس دفعہ اس میں سے بھی ایک لاکھ ڈالر کا حصہ دے رہا ہوں۔جرمنی نے تین لاکھ سے اوپر کا غیر معمولی اضافہ کیا ہے ، اس لئے ان کو ڈیڑھ لاکھ یورو اس میں سے دیا جارہا ہے اور یہ اس لئے دیا جارہا ہے کہ امریکہ اور جرمنی میں کیونکہ مساجد کی تعمیر ہورہی ہے یہ رقم وہ مساجد پر خرچ کریں۔یو کے کا بھی اضافہ کافی ہے لیکن جتنا پہلی دو جماعتوں کا ہے اتنا نہیں۔اس لئے پچاس ہزار پاؤنڈ ان کو بھی مساجد کی تعمیر کے لئے دیئے جارہے ہیں کیونکہ اب مساجد کی طرف یہاں بھی توجہ پیدا ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے یہ مبارک کرے اور آئندہ بھی پہلے سے بڑھ کر قربانیوں کی توفیق عطا فرمائے۔ان سب کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت ڈالے۔ابھی نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو ہمارے ایک بزرگ مکرم مسعود احمد خان صاحب دہلوی کا جنازہ ہے جو تین نومبر کو صبح تین بجے اکانوے سال کی عمر میں وفات پاگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔پرانے خادم سلسلہ تھے۔واقف زندگی تھے۔ایڈیٹر روز نامہ الفضل رہے ہیں۔1920ء میں ان کی دہلی میں پیدائش ہوئی تھی۔ان کے والد صحابی تھے جنہوں نے 1900ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی اور ان کے دادا بھی صحابی تھے جنہوں نے 1890ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی تھی۔1944ء میں مکرم دہلوی صاحب نے زندگی وقف کی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے روز نامہ الفضل میں بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر ان کو مقرر فرمایا اور پھر پنجاب یونیورسٹی لاہور سے جنرل ازم میں پوسٹ گریجویشن کروایا۔1946ء سے 71ء تک بطور نائب ایڈیٹر روزنامہ الفضل خدمت کی توفیق پائی۔71ء سے لے کے 88ء تک ایڈیٹر روز نامہ