خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 549
549 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم انہوں نے بیعت کے بعد ستر ہزار فرانک سیفا چندوں میں ادا کر دیا۔کہتے ہیں کہ چندہ ادا کرنے کی دیر تھی کہ عرصے سے بگڑی صحت واپس آنے لگی۔نمازوں کی کھوئی توفیق واپس آنے لگی۔یہاں تک کہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ساری نمازیں مع تہجد ادا کرنے کی توفیق ملتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل اور میری مالی قربانی کی برکت سے ہوا ہے کہ چندوں نے نمازوں کی بھی توفیق عطا کی۔امیر صاحب آسٹریلیا کہتے ہیں کہ نومبر 2010ء میں جب تحریک جدید کے لئے نئے سال کا اعلان ہوا تو میں نے جو اُن کو ہدایت کی تھی اُس کی روشنی میں آسٹریلیا میں شعبہ تحریک جدید کی طرف سے تمام جماعتوں کو تحریک جدید کی مالی قربانی میں آگے بڑھنے کی طرف توجہ دلائی گئی۔جماعت احمد یہ ملبورن نے وعدہ کیا کہ انشاء اللہ ہم دو گنا کر دیں گے۔چنانچہ انہوں نے بہت محنت کی اور محض اللہ کے فضل سے پچھلے سال سے ایک سو چونسٹھ فیصد اضافہ کرتے ہوئے اپنا چندہ پیش کیا۔جماعت احمد یہ کینیڈا نے پچھلے سال سے پچہتر فیصد اضافہ کرتے ہوئے اپنا چندہ پیش کیا۔اسی طرح اجتماعی قربانی میں بھی جماعتیں غیر معمولی طور پر آگے بڑھ رہی ہیں۔ہمارے انسپکٹر تحریک جدید انڈیا لکھتے ہیں کہ فروری میں خاکسار وکیل المال صاحب کے ساتھ صوبہ تامل ناڈو کے دورے پر تھا۔ہم لوگ جماعت احمدیہ کو گمبٹور پہنچے۔بعد نماز مغرب ایک تربیتی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں وکیل المال صاحب نے تحریک جدید کے اغراض و مقاصد اور پس منظر کے موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔اجلاس کے بعد مسجد میں موجود تمام احباب جماعت سے نئے سال کے وعدے لئے گئے۔ایک مخلص دوست کا سابقہ وعدہ بیس ہزار روپیہ تھا۔اُن کی مالی حالت اچھی تھی۔عموماً کیرالہ کے علاقے میں امیر لوگ ہیں۔وکیل المال صاحب نے موصوف کو سالِ نو کے لئے ایک لاکھ روپیہ وعدہ لکھوانے کی تحریک کی۔پہلے تو موصوف نے اپنی مجبوری کا اظہار کیا، پھر اس قربانی کے لئے آمادہ ہو گئے۔اُس وقت ان کے ساتھ ان کی دو واقفات نو بچیاں بھی موجود تھیں۔انسپکٹر کہتے ہیں کہ مسجد سے نکل کر سیکرٹری صاحب تحریک جدید کے گھر جاتے ہی اُن کو ان صاحب کا فون آیا، جنہوں نے ایک لاکھ وعدہ کیا تھا کہ میری بڑی بیٹی کہہ رہی ہے ، واقفات نو بچیاں جو ساتھ تھیں، کہ ابا جان آپ نے جو تحریک جدید کا وعدہ لکھوایا ہے وہ ہمارے لئے کم ہے۔اس کو اور بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ روپے کر دیں۔اس لئے میر اوعدہ ڈیڑھ لاکھ لکھ لو۔پھر تحریک جدید کے نمائندے نے جب کشمیر کا دورہ کیا ( جو انڈیا کا کشمیر ہے)۔تو کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ آسنور کے ایک معمر مخلص دوست سے ملاقات ہوئی۔موصوف کی گزر بسر اور علاج معالجہ کا انحصار محدود سر کاری پنشن پر تھا۔گزشتہ دنوں دوائیوں کا خرچ پنشن سے بھی زیادہ ہو گیا تھا۔موصوف کے حالات کو دیکھتے ہوئے مناسب نہیں تھا کہ ہم اُن کے بجٹ میں اضافہ کرتے مگر دعا کے بعد جب ہم اُن سے رخصت ہونے لگے تو موصوف نے فرمایا آپ اپنے آنے کا مقصد تو بتائیں۔تو یہ نمائندہ کہتے ہیں کہ خاکسار نے انہیں بسلسلہ اضافہ چندہ تحریک جدید اُن کو جو ہدایت گئی تھی اس سے آگاہ کیا تو موصوف یکلخت تازہ دم ہو کر کہنے لگے کہ جبتک میں زندہ ہوں خلیفتہ المسیح کے فرمان پر لبیک کہتارہوں گا۔یہ کہتے ہی اُن کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے کہا کہ جب خدا نے میرا