خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 535
خطبات مسرور جلد نهم 535 43 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 اکتوبر 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اکتوبر 2011ء بمطابق 28 اخاء 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن، (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جو جماعت قائم فرمائی اور اُس کو یہ اعزاز بخشا کہ وہ پہلوں کے ساتھ ملا دی گئی یہ کوئی معمولی اعزاز نہیں ہے، یہ کوئی معمولی جماعت نہیں ہے۔ہزاروں لاکھوں نیک فطرت مسلمان اس زمانے کے پانے کی خواہش میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔پس ہم میں سے ہر ایک کو جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے منسوب کرتا ہے اُن باتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے جن پر پہلوں نے عمل کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کا تعلق جوڑا۔آپ کی امت میں شامل ہوئے اور آپ کی تربیت کے زیر اثر اللہ تعالیٰ سے ایسا پختہ تعلق جوڑا کہ ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ يَشْرِكْ نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ (البقرة : 208) جو اپنی جان کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے بیچ ڈالتے ہیں۔پس انہوں نے خدا کی رضا کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کی۔اپنی جان کو بھی مشکل میں ڈالا اور اُس کی کوئی پرواہ نہیں کی۔اُن کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا ہو تا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ بھی انہیں بے انتہا نواز تا رہا۔صحابہ کرام قرآنِ کریم کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے بلکہ انہیں اس حد تک اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا شوق تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے تھے کہ کس طرح نیکیاں کریں۔بعض اس حد تک سوال پوچھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں روک دیا کہ شریعت نازل ہو رہی ہے تم سوال نہ کرو۔کیونکہ اگر بعض تمہارے سوالات پر تمہیں احکامات مل جائیں تو تمہیں مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ رَسُوفُ بِالْعِبَادِ ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔اپنی خاص رحمت کی نظر رکھتا ہے جو بندے کو تکلیف سے بچاتی ہے ، اُس بندے کو جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہر تکلیف کو اُٹھانے کے لئے تیار ہو جاتا ہے ، اُس کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اُس پر خاص شفقت فرماتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ سے پختہ تعلق جوڑنے والے بھی اپنے ماحول میں خدا تعالیٰ کی صفات کے پر تو بنتے ہیں۔اُن تمام احکامات کو ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے بھی شفقت کا سلوک کرتے ہیں۔اُن کے حق ادا کرتے ہیں۔