خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 508 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 508

خطبات مسرور جلد نهم 508 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07اکتوبر 2011ء افراد سکول میں کلاس روم کے اندر آئے جبکہ آپ کلاس میں پڑھارہے تھے اور آپ پر فائر کئے۔ایک گولی گردن پر لگی اور پیٹ میں لگی اور آپ کو شہید کر دیا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّ الَيْهِ رَاجِعُونَ سکول میں تو زخمی حالت میں تھے کافی حالت خراب تھی، ہسپتال لے جایا جارہا تھا رستے میں شہادت ہو گئی۔یہ نواحمدی تھے۔طبیعت میں شروع ہی سے دینی امور میں دلچسپی اور حق کی تلاش اور جستجو تھی۔آپ مختلف علماء سے ملتے تھے اور کتب کے مطالعہ میں مصروف رہتے تھے۔اسلامی فرقوں کے متعلق ریسرچ آپ کا معمول تھا۔چنانچہ سعید فطرت ہونے اور ذاتی تحقیق کی بنا پر آپ ان باتوں کو (جو آج کل بدعات پھیلی ہوئی ہیں ، علماء پھیلاتے ہیں) بیعت سے پہلے ہی ترک کر چکے تھے۔جو باتیں آج رسم و رواج کی صورت میں اسلام میں راہ پاگئی ہیں ان سے آپ کو نفرت تھی مثلاً قل ہے ، تعویذ گنڈے، ختم و غیرہ اور بیعت سے پہلے ہی اپنے عزیزوں کو بھی یہ کہا کرتے تھے کہ چھوڑو یہ فضولیات ہیں۔احمدیت کا پیغام آپ تک آپ کے بعض عزیزوں کی طرف سے پہنچا جس پر آپ جماعت کے متعلق تحقیقات کی غرض سے متعدد بار اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ ربوہ بھی آئے اور مختلف جماعتی رسائل اور کتب کے مطالعہ کے علاوہ ایم ٹی اے پر نشر ہونے والے پروگرام سنتے رہے۔اسی دوران آپ کی ملاقات وہیں ایک معروف احمدی سے ہوئی۔اُن کے رابطہ میں رہنے لگے اور کچھ عرصے بعد آپ نے بیعت کا ارادہ کر لیا۔جب آپ کو کہا گیا کہ ابھی کچھ وقت مزید تحقیق کر لیں اور تسلی کر لیں پھر آپ کی بیعت لیں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ بس اب میری بیعت لے لیں۔کیا پتہ کس دوران میری موت آئے اور میں جہالت کی موت نہیں مرنا چاہتا اس لئے آپ میری بیعت لیں۔چنانچہ 29 ستمبر 2010ء کو یہ اپنے بیوی بچوں سمیت احمدیت کی آغوش میں آگئے اور بیعت کرنے کے بعد غیر معمولی اخلاقی اور روحانی تبدیلی رونما ہوئی۔نہ صرف یہ کہ نمازوں میں مزید توجہ پیدا ہوئی۔قرآنِ کریم کی تلاوت کے پابند ہو گئے اور اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے۔گھر پر نماز باجماعت کا اہتمام کرواتے تھے۔خلافت سے بھی آپ کو والہانہ عشق تھا۔بیعت کے فوراً بعد گھر میں ایم ٹی اے کا انتظام کروالیا۔نہ صرف خود دیکھتے تھے بلکہ بچوں کو بھی ساتھ لے کے دکھاتے تھے۔ایم ٹی اے کے اکثر پروگرام سنتے تھے۔دعوت الی اللہ کا جذبہ اور شوق غیر معمولی طور پر بھرا ہوا تھا۔چنانچہ اپنے عزیزوں اور ساتھی ٹیچر ز کی دعوتوں کا اہتمام فرماتے تھے اور مقامی مربی سے ان کا رابطہ مسلسل کرواتے رہتے تھے۔اس کے علاوہ جماعتی سی ڈیز اور ایم ٹی اے اور جماعتی کتب و رسائل ان تک پہنچاتے تھے اور خود بھی مختلف کتب اپنے زیر مطالعہ رکھتے تھے۔ایک مربی صاحب نے مجھے لکھا کہ تبلیغ کرنے کے معاملے میں بڑے نڈر تھے۔اسی طرح خلافت سے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جب نام آتا یا ان کی تصویریں دیکھتے تھے تو بڑا عقیدت واحترام ان کی آنکھوں میں نظر آتا تھا۔مربیان اور معلمین اور جماعتی عہدیداروں سے غیر معمولی اخلاص و وفا کا تعلق رکھتے تھے۔مہمان نوازی کی صفت ان میں بہت نمایاں تھی۔جمعہ پڑھنے کے لئے باقاعدگی سے جاتے اور اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے کر جاتے۔انہیں اپنے بچوں کی تربیت کی بہت فکر تھی اور ان کی خواہش تھی کہ ان کا چھوٹا بیٹا مربی بنے۔ہر قربانی کے لئے ہر وقت