خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 495
خطبات مسرور جلد نهم 495 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2011ء قرآن شریف تقوی ہی کی تعلیم دیتا ہے اور یہی اس کی علت غائی ہے۔“ (یعنی یہی اس کا مقصد ہے) اگر انسان تقویٰ اختیار نہ کرے تو اس کی نمازیں بھی بے فائدہ اور دوزخ کی کلید ہو سکتی ہیں۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 390 مطبوعہ ربوہ) فرمایا کہ تقویٰ نہیں ہے تو نمازیں بے فائدہ ہیں بلکہ نمازیں دوزخ کی طرف لے جانے والی ہوں گی۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ :۔”ساری جڑھ تقویٰ اور طہارت ہے اسی سے ایمان شروع ہوتا ہے اور اسی سے اس کی آبپاشی ہوتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 550-551 مطبوعہ ربوہ) پھر فرمایا :۔اس سلسلہ کو خدا تعالیٰ نے تقویٰ ہی کے لئے قائم کیا ہے۔( یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے جو آپ نے ہم پر ڈالی) ”کیونکہ تقویٰ کا میدان بالکل خالی ہے۔فرماتے ہیں ”جو تقویٰ اختیار کرتا ہے وہ ہمارے ساتھ ہی ہے۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 649 مطبوعہ ربوہ) پس ہمیں ہمیشہ یہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ہم نے اپنے عہد بیعت کو نبھاتے ہوئے وہ نمازیں ادا کرنے کی کوشش کرنی ہے جو تقویٰ پر چلتے ہوئے ادا ہوں۔آج احمدی ہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ جڑ کر اس عرفان کو حاصل کر سکتا ہے۔پس اگر ہم نے بیعت کا دعویٰ بھی کیا اور تقویٰ کے خالی میدان کو بھرنے کی کوشش نہ کی تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کے مقصد کو پورا کرنے والے نہیں ہو سکتے کیونکہ جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے کہ اس سلسلے کو خدا تعالیٰ نے تقویٰ کے لئے ہی قائم کیا ہے۔اللہ کرے کہ ہر احمدی اس اہم ذمہ داری کو سمجھنے والا ہو۔ان ممالک میں جو شرک کے گڑھ ہیں اگر ہم نے تقویٰ سے کام لیتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کیں اور اپنی بیعت کے مقصد کو نہ پہچانا تو ہم اللہ تعالیٰ کی نظر میں قابل مواخذہ ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے اور ہمیں اپنے اُن بندوں میں شامل رکھے جن پر اُس کے پیار کی نظر پڑتی ہے۔یہاں میں مسجد نصر کی تعمیر اور تکمیل کے بارے میں بھی کچھ کو ائف بیان کروں گا۔مسجد کے پلاٹ کا کل رقبہ نو ہزار پانچ سو تریسٹھ مربع میٹر ہے۔اور مسجد کے پلاٹ کا رقبہ 7759 مربع میٹر ہے۔مسجد کے مردانہ حصے کا رقبہ 880 مربع میٹر ہے اور تقریباً چودہ سو نمازیوں کی گنجائش ہے۔گیلری میں جو 298 مربع میٹر ہے، پانچ سو نمازیوں کی گنجائش ہے۔زنانہ مسجد میں 850 نمازیوں کی گنجائش ہے۔پھر نیچے بھی ایک ہال بنایا گیا ہے جو سب سے پہلے بنا تھا، اور بغیر مزید تعمیر کے کافی دیر پڑا رہا۔اُس میں آٹھ سو پچاس نمازیوں کی گنجائش ہے۔پھر اسی طرح ایک مشن ہاؤس اپارٹمنٹ بھی ہے ، اس میں تین بیڈ روم ہیں، ڈرائنگ روم ہے ، سیلف کنڈیکٹ پورا گھر ہے ماشاء اللہ۔اسی طرح مسجد بیت النصر کے مزید کو ائف یہ ہیں کہ کل ملا کے 2250 افراد نماز ادا کر سکتے ہیں اور اسی طرح جو نیچے ہال ہے اُس کی چھت جو ٹیرس (Terrace) کے طور پر استعمال ہو رہی ہے ، اُس میں بھی اگر موسم کھلا ہو تو رش ہو تو