خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 492
492 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم سے کرتے ہیں، جہاں اللہ تعالیٰ نے خلافت جاری رہنے کا قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا ہے وہاں عبادتوں اور اعمالِ صالحہ سے اس کو مشروط بھی کیا ہے۔سورۃ نور میں جہاں یہ آیت ہے ، اس سے دو آیات پہلے یہ بیان فرمایا ہے کہ یہ دعویٰ نہ کرو کہ ہم یہ کر دیں گے اور وہ کر دیں گے بلکہ فرمایا طَاعَة معرُوف کا اظہار کرو، ایسی اطاعت کر وجو عام اطاعت ہے ، ہر اُس معاملے میں اطاعت کرو جو قرآن اور رسول کے حکم کے مطابق تمہیں کہا جائے اُس پر عمل کرو اور اس کے مطابق اطاعت کرو۔قرآن اور رسول کا حکم جب پیش کیا جائے تو فورآمانو۔اس بارے میں میں بہت مرتبہ کھل کر بتا بھی چکا ہوں۔پس جہاں مردوں کے ساتھ عور تیں اپنے عبادتوں کے معیار بلند کریں، اپنے ایمان میں ترقی کی کوشش کریں وہاں وہ خاص حکم جو عورتوں کو ہیں اُن پر بھی عمل کرنے کی کوشش کریں۔یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ پر دے کے بارہ میں اپنے آپ کو ڈھانکنے کا حکم گو عورت کو ہے لیکن اپنی نظریں نیچی رکھنے کا اور زیادہ بے تکلفی سے بچنے کا حکم مرد اور عورت دونوں کو ہے ، بلکہ اپنی نظریں نیچی رکھنے کا حکم پہلے مردوں کو ہے پھر عورتوں کو ہے۔تاکہ مرد بے حجابی سے نظریں نہ ڈالتے پھریں۔پھر امانتوں میں ووٹ کے حق کا صحیح استعمال ہے، جہاں بھی استعمال ہوناہو ، پھر اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے عہد بیعت کا حق ادا کرنا ہے، اس کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے بڑا واضح فرمایا ہے کہ جس کے سپر د جو بھی امانتیں ہیں تم اُس کے لئے پوچھے جاؤ گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے نیک اعمال میں تکبر سے بچنے اور عاجزی اختیار کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ہمارے ہاں اکثر مسائل اور جھگڑے تفاخر اور تکبر سے پیدا ہوتے ہیں۔اگر انسان اپنی حیثیت پر غور کرتارہے تو ہمیشہ عاجزی کا اظہار ہو اور اس کے جائزے سب سے زیادہ انسان خود لے سکتا ہے۔دوسرے کے کہنے پر تو بعض دفعہ غصہ بھی آجاتا ہے چڑ بھی جاتا ہے لیکن خود اپنا جائزہ لینے کی عادت ڈالیں تو یہ سب سے بہترین طریقہ ہے۔ایمانداری سے، قرآنی احکامات کو سامنے رکھتے ہوئے جائزے لیں۔اگر اللہ تعالیٰ کا خوف ہو اور یقینا ہر احمدی میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہے، صرف ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے تو یہ جائزے بڑی آسانی سے لئے جاسکتے ہیں۔پس قرآنِ کریم کو پڑھتے وقت اللہ تعالیٰ کے حکموں پر غور کرنے کی عادت ڈالیں۔آج مختصر وقت میں میں تمام احکامات کی تفصیلات تو آپ کے سامنے نہیں رکھ سکتا، جیسا کہ میں نے کہا خود ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے اور یہ تبھی ہو گا جب قرآن کریم کی ہر گھر میں با قاعدہ تلاوت بھی ہو ، اُس کو سمجھنے کی کوشش بھی ہو اور اُس پر عمل کرنے کی کوشش بھی ہو۔بچوں کی بھی نگرانی ہو کہ وہ نمازوں کی طرف بھی توجہ دے رہے ہیں، قرآنِ کریم کو پڑھنے کی طرف بھی توجہ دے رہے ہیں۔ہر احمدی کو جس کا ایمان لانے کا دعویٰ ہے یہ یادرکھنا چاہئے کہ ایمان کا دعویٰ تبھی مکمل ہوتا ہے جب یوم آخرت پر بھی ایمان ہو اور یقین ہو اور یہ واضح ہو کہ مرنے کے بعد کی ایک زندگی ہے جس میں اس دنیا کے کئے گئے اعمال کا حساب دینا ہو گا۔جہاں آخری فیصلہ ہو گا۔جہاں جزا سزا کا فیصلہ ہو گا۔پس اللہ تعالیٰ نے مساجد آباد کرنے والوں کی یہ نشانی بھی بتائی ہے کہ اُن کو آخرت پر بھی ایمان ہوتا ہے۔مرنے کے بعد کی زندگی اور وہاں حساب کتاب کو بھی وہ بر حق سمجھتے ہیں