خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 471
471 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم میگزین جو اُنہیں دورانِ تبلیغ دیا گیا تھا اس میں پہلے دیکھ چکے تھے۔اس پر انہیں بیعت فارم دیا گیا اور کہا گیا کہ اس کو پر کرنے سے پہلے اس کا اچھی طرح مطالعہ کر لیں۔علیو کمارا صاحب نے جب بیعت فارم پڑھا۔کہنے لگے کہ میں اب مزید انتظار نہیں کر سکتا۔چنانچہ اُسی وقت بیعت فارم پر کر کے جماعت میں داخل ہو گئے۔پھر امیر صاحب آئیوری کوسٹ لکھتے ہیں کہ دواقے ریجن کے گاؤں نیا کارہ میں ایک مارا بو یعنی وہ شخص مولوی جو تعویذ گنڈے کیا کرتا تھا، اُن کا نام کونے ابراہیم تھا۔اُنہوں نے خواب دیکھا کہ ایک بزرگ اُسے ملتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ میں عیسی نبی ہوں۔ایک دن وہ احمد یہ مشن ہاؤس آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر دیکھ کر حیران ہو گیا اور کہا کہ یہی وہ بزرگ ہیں جو اپنا تعارف نبی عیسی کروا رہے تھے۔اور اُس نے اُسی وقت بیعت کر لی اور یہ جو کام تھا تعویذ گنڈے کا اس سے بھی تو بہ کر لی۔غرض کہ ایسے بہت سے واقعات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ باوجود مخالفتوں اور راہِ راست سے گمراہ کرنے کی کوششوں کے جو مولوی اور دوسرے لوگ کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ کس طرح نیک فطرت لوگوں کی مختلف طریقوں سے رہنمائی فرماتا رہتا ہے اور فرما رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام سُن کر یا تصویر دیکھ کر ایک کشش کی کیفیت اُن میں پیدا ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی ترقی اُن کو ششوں سے کئی گنازیادہ ہے جو ہم کر رہے ہیں۔پس یہ الہی کام ہے جس نے تکمیل کو تو انشاء اللہ تعالیٰ اب پہنچنا ہی ہے لیکن یہ ترقی ہمیں اس طرف بھی توجہ دلاتی ہے کہ ہم جن کو ایک عرصہ ہو گیا ہے احمدیت پر قائم ہوئے ہوئے یا ہم اُن لوگوں کی اولادیں ہیں جنہوں نے احمدیت قبول کی تھی، ہم نے اپنی حالتیں کیسی بنانی ہیں؟ ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ ہمارے معیار کیا ہونے چاہئیں؟ جیسا کہ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اگر تم نیکیوں میں پیچھے جارہے ہو تو فکر کرو کہ اس سے انسان پھر گرتا چلا جاتا ہے اور بہت دور چلا جاتا ہے۔بیعت میں آکر کیا باتیں ہیں جو ہم نے کرنی ہیں، اس پر ہمیں غور کرتے رہنا چاہئے۔بعض توجہ طلب امور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبانِ مبارک سے نکلے ہوئے مبارک الفاظ میں میں بیان کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”شریعت کے دو ہی بڑے حصے اور پہلو ہیں جن کی حفاظت انسان کو ضروری ہے۔ایک حق اللہ ، دوسرے حق العباد - حق اللہ تو یہ ہے“ ( اللہ تعالیٰ کا حق تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت ، اس کی اطاعت ، عبادت، توحید، ذات اور صفات میں کسی دوسری ہستی کو شریک نہ کرنا۔اور حق العباد یہ ہے کہ اپنے بھائیوں سے تکبر ، خیانت اور ظلم کسی نوع کا نہ کیا جاوے“۔( کسی بھی قسم کا نہ کیا جائے)۔گویا اخلاقی حصہ میں کسی قسم کا فتور نہ ہو۔سننے میں تو یہ دو ہی فقرے ہیں“۔فرماتے ہیں ”سننے میں تو یہ دو ہی فقرے ہیں لیکن عمل کرنے میں بہت ہی مشکل ہیں“۔اور یہی کام ہے جو آج احمدیوں کے سپرد ہے۔آسان کام تو نہیں۔مولویوں کی طرح پکے پکائے حلوے تو ہم نے نہیں کھانے۔یہ اپنی اصلاح کا کام ہی ہے جو ہم نے کرنا ہے ، ہر احمدی کو اس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔